نورالحق حصہ اوّل — Page 407
روحانی خزائن جلد ۸ ۴۰۷ سر الخلافة اس کے معنوں میں تغییر و تبدیل کر دی ہے اور دراصل جب اس لفظ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کریں تو اس کے اور معنے ہیں اور جب حضرت مسیح کی طرف یہ لفظ منسوب کریں تو پھر اس کے وہی حقیقی معنے لئے جاویں گے جو خدائے تعالیٰ کے قدیم ارادہ میں تھے۔ پس اگر یہی بات سچ ہے تو علاوہ اس فساد صریح کے کہ ایک نبی کی شان سے بہت بعید ہے کہ وہ ایک قرار دادہ معنوں کو توڑ کر اُن میں ایک ایسا تصرف کرے کہ بحر تحریف معنوی کے اور کوئی دوسرا نام اس کا ہو ہی نہیں سکتا۔ دوسرا فساد یہ ہے کہ جس اتحاد مقولہ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا یعنی فلما تو فیتنی کا وہ اتحاد بھی تو قائم نہ رہا کیونکہ اتحاد تو تب قائم رہتا کہ توفی کے معنوں میں آنحضرت اور حضرت عیسی شریک ہو جاتے۔ مگر وہ شراکت تو میسر نہ آئی پھر اتحاد کس بات میں ہوا۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی اور لفظ نہیں ملتا تھا جو آپ نے ناحق ایک ایسے اشتراک کی طرف ہاتھ پھیلایا جس کا آپ کو کسی طرح سے حق نہیں پہنچتا تھا۔ بھلا زمین میں دفن ہونے والے اور آسمان پر زندہ اٹھائے جانے والے میں ایک ایسے لفظ میں کہ یا مرنے کے اور یا زندہ اٹھائے جانے کے معنے رکھتا ہے کیونکر اشتراک ہو۔ کیا ضدین ایک جگہ جمع ہو سکتی ہیں۔ اور اگر آیت فلما توفیتنی میں توفی کے معنے مارنا نہیں تھا تو پھر کیا امام بخاری کی عقل ماری گئی کہ وہ اپنی صحیح میں اس معنے کی تائید کے لئے ایک اور آیت دوسرے مقام سے اٹھا کر اس مقام میں لے آیا یعنی آیت انی متوفیک اور پھر اسی پر بس نہ کیا بلکہ قول ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی اس جگہ جڑ دیا کہ متوفیک ممیتک یعنی متوفیک کے یہ معنی ہیں کہ میں تجھے مارنے والا ہوں۔ اگر بخاری کا یہ مطلب نہیں تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمثیلی معنوں کو ابن عباس کے صریح معنوں کے ساتھ زیادہ کھول دے تو ان دونوں آیتوں کو جمع کرنے اور ابن عباس کے معنوں کے ذکر سے کیا مطلب تھا اور کون ساحل تھا ۷۶ کہ توفی کے معنے کی بحث شروع کر دیتا۔ پس در حقیقت امام بخاری نے اس کارروائی سے توفی کے معنوں میں جو کچھ اپنا مذہب تھا ظاہر کر دیا ۔ سو اس جگہ ہمارے تائید دعوی کے لئے تین ہو گئیں۔ اوّل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول مبارک کہ جیسے عبد صالح یعنی عیسی نے چیزیں