نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 305 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 305

روحانی خزائن جلد ۸ ۳۰۵ اتمام الحجة پھر نفاق پیشہ لوگ مقابل پر آنے سے بھاگ گئے تو اس بد عہدی کے باعث سے جو کچھ خرچہ ہمارے عائد حال ہو گا وہ سب براہ راست یا بذریعہ عدالت اُن سے لیا جائے گا اور نیز اس حالت میں بھی کہ جب وہ جواب لکھنے میں عہدہ برانہ ہوسکیں اس کا اقرار بھی ان کی درخواست میں ہونا چاہیے۔ اب ہم مولوی رسل بابا کے ہزار روپیہ کے انعام کا ذکر کرتے ہیں ۔ ہم بیان کر چکے بابا ہیں کہ مولوی رسل بابا صاحب نے اپنے رسالہ حیات اس کو ہزار روپیہ انعام کی شرط سے شائع کیا ہے کہ جو شخص اُن کے دلائل کو توڑ دے اس کو ہزار روپیہ انعام دیا جائے مگر مولوی صاحب موصوف نے اسی رسالہ میں یہ بھی بیان کر دیا ہے کہ وہ دلائل رسالہ مذکورہ میں ایک معمایا چیستان کی طرح مخفی رکھے گئے ہیں وہ کسی کو معلوم ہی نہیں ہو سکتے جب تک کوئی انہیں سے اس رسالہ کو سبقاً سبقاً نہ پڑھے۔ عقلمند معلوم کر گئے ہوں گے کہ یہ باتیں کس خوف نے ان کے منہ سے نکلوائی ہیں اور کون سا دل میں دھڑکا تھا جس سے ان روباہ بازیوں کی ضرورت ہوئی ہم تو ان باتوں کے سنتے ہی ڈائن کے اڑھائی حرف معلوم کر گئے اور سمجھ گئے کہ کس درد سے یہ سیا پا کیا گیا ہے اور کس خوف سے دلائل کا حوالہ اپنے پیٹ کی طرف دیا گیا ہے۔ لس بہر حال ہم ان کو اس رسالہ کے ذریعہ سے فہمائش کرتے ہیں کہ وہ ماہ جون ۱۸۹۳ء کے اخیر تک ہزار روپیہ خواجہ یوسف شاہ صاحب اور شیخ غلام حسن صاحب اور میر محمود شاہ صاحب کے پاس یعنی بالا تفاق تینوں کے پاس جمع کرا کر اُن کی دستی تحریر کے ساتھ ہم کو اطلاع دیں جس تحریر میں اُن کا یہ اقرار ہو کہ ہزار روپیہ ہم نے وصول کر لیا اور ہم اقرار کرتے ہیں کہ مرزا غلام احمد یعنی راقم ہذا کے غلبہ ثابت ہونے کے وقت یہ ہزار روپیہ ہم بلا توقف مرز اند کور کو دے دیں گے اور رسل بابا کا اس سے کچھ ﴿۲۲﴾ تعلق نہ ہوگا۔ اس تحریر کی اس لئے ضرورت ہے کہ تا ہمیں بکلی اطمینان ہو جائے اور سمجھ لیں کہ روپیہ ثالثوں کے قبضہ میں آ گیا ہے اور تاہم اس کے بعد مولوی رسل بابا کے رسالہ کی بیخ کنی کرنے کے لئے مشغول ہو جائیں۔ اور ہم قصہ کوتاہ کرنے کے لئے اس بات پر راضی ہیں کہ شیخ محمد حسین بطالوی یا ایسا ہی کوئی زہرناک مادہ والا فیصلہ کرنے کے لئے مقرر ہو جائے فیصلہ کے لئے یہی کافی ہوگا کہ شیخ بطالوی مولوی رسل بابا صاحب کے رسالہ کو پڑھ کر اور ایسا ہی ہمارے رسالہ کو اول سے آخر تک دیکھ کر ایک عام جلسہ میں قسم کھا جائیں اور قسم کا مضمون ہو کہ اے حاضرین بخدا میں نے اول سے آخر تک دونوں