نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 3 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 3

روحانی خزائن جلد ۸ ۳ نور الحق الحصة الأولى وكانوا من تعاليم الله غافلين۔ وأنتم ترون العواصف التي هبت في هذه اور الہی تعلیموں سے غافل تھے۔ اور تم دیکھ رہے ہو کہ ان دنوں میں کیسی تیز آندھیاں چل رہی الأيام، والشرور التي هاجت وماجت من كل طرف وصبت كوابل (۲) ہیں اور کیسی ہریک طرف سے شرارتیں برانگیختہ اور موجزن ہوکر بارش کی طرح اسلام پر گر رہی ہیں على الإسلام، حتى حل كل قلب حُبُّ الدنيا وشهواتها، إلا الذي یہاں تک کہ ہر یک دل میں دنیا کی محبت اور دنیا کی شہوات گھر کر گئیں اور ان سے عصمه رحم الله، فانثنى بفضل منه ورحمه وكان من المحفوظين۔ کوئی نہیں بچ سکا بجز اس کے جس کو خدا کے رحم نے بچالیا جس پر رحم ہوا وہ فضل اور رحم الہی کے ساتھ ان تمام بلاؤں سے وترون كيف ذهبت ريح عامة المسلمين وتفرقوا، وانتشروا انتشار باہر نکل آیا اور بچ گیا۔ اور تم دیکھ رہے ہو کہ کیسی عام لوگوں کی ہوا نکل گئی اور ان میں نا اتفاقی اور تفرقہ پیدا ہو گیا اور الجراد، واستنت نفوسهم الأمارة استنان الجياد، وتركوا سير المتقين وہ ٹڈیوں کی طرح الگ الگ جاپڑے اور ان کے بیراه نفسوں نے خود رو گھوڑوں کی طرح تو سنے شروع کئے اور پرہیز گاروں المتواضعين۔ هذه أحوال العامة، وأما حال علماء هذه الديار فهو شر اور فروتنوں کی خصلتیں انہوں نے چھوڑ دیں۔ یہ تو عام لوگوں کا حال ہے مگر اس ملک کے اکثر عالموں کا حال اس سے من ذلك، ما بقى لأكثرهم شغل من غير أن يُكذِّبوا صدوقا، أو بھی بدتر ہے ان میں سے بہتوں کا شغل بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ کسی بچے کو جھوٹا قرار دیں یا يُكفروا مؤمنًا، وليس معهم من العلم إلا كنعبة طير أصغر الطيور أو أقل کسی مومن کو کافر ٹھہرا دیں ان کا علم تو فقط اس قدر ہے جیسے کہ چھوٹے سے بلکہ بہت سے کم قدر پرند کی چونچ میں پانی منها، ولكن الكبر أكبر من كبر الشياطين۔ يُعلون أنفسهم بغير حق، سما سکتا ہے مگر تکبر شیطان کے تکبر سے بھی زیادہ ہے۔ یہ لوگ اپنے تئیں بے وجہ اونچا کھینچتے ہیں ومن كان تبوأ ذروة في الفضل والعلم فهو ليس في أعينهم إلا جاهلٌ غَبِيٌّ اور جو شخص در حقیقت فضل اور علم کے بلند ٹیلے پر جاگزین ہو وہ ان کی نظر میں ایک جاہل نبی ہے۔