نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 255 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 255

روحانی خزائن جلد ۸ ۲۵۵ نور الحق الحصة الثانية الأوقات، فقد تبع المفتريات، و آثر على قول رسول الله صلى الله پہلے بھی واقع ہو گیا ہے اس نے مفتریات کی پیروی کی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر عليه وسلم أراجيف الكاذبين۔ وها أنا أقول على رؤوس الأشهاد جھوٹوں کی بات کو ترجیح دی ہے اور خبردار ہو میں گواہوں کے روبرو کہتا ہوں کہ جو شخص اس لجميع أهل البلاد، أنه من أنكر هذه الآية من ذوى شنآن، فليس عنده ہے اور نشان کا انکار کرے تو اس کے پاس کوئی دلیل نہیں اور محض ظلم سے بات کرتا من برهان، ولا يتكلم إلا من ظلم وعدوان، فإن عندنا شهادة كل زمان۔ ہمارے پاس ہر زمانہ کی گواہی ہے کتا بیں موجود ہیں اور جو عذر کئے گئے ہیں وہ الكتب موجودة، والمعاذير مردودة، وقد كتبنا هذا لإيقاظ النائمين۔ مردود ہیں اور یہ رسالہ ہم نے سوئے ہوئے کو جگانے کے لئے لکھا ہے ۔ أيها الناس اقبلوا أو لا تقبلوا، إن الآية قد ظهرت، والحجة قد تمت اے لوگو تم قبول کرو یا نہ کرو بے شک نشان ظاہر ہو گیا اور حجت پوری ہو گئی ولن تستطيعوا أن تخرجوا لنا نظيرًا آخر لهذا الخسوف والكسوف، فلا (۵۸) اور تمہیں طاقت نہیں کہ اس کسوف خسوف کی کوئی اور نظیر پیش کر سکو پس تعرضوا عن آية الله الرحيم الرؤوف۔ وهذا آخر كلامنا في هذا الباب، روگردانی مت کرو اور یہ ہماری اس باب میں آخری کلام ہے ۔ ونشكر الله على تأليف هذا الكتاب، ونصلى على رسوله خاتم النبيين۔ خدا تعالیٰ کے نشانوں سے اور ہم اس کتاب کی تالیف پر خدا تعالیٰ کا شکر کرتے ہیں اور ہم خدا تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔ اور آخری دعا یہ ہے کہ الحمد لله رب العالمین ۔