نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 225 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 225

روحانی خزائن جلد ۸ ۲۲۵ نور الحق الحصة الثانية لا ينظرون تدبّرًا وتفكرًا وتأبطـوا الأَوْهَامَ كَالْأَوْثَانِ اور تدبر اور تفکر سے نہیں سوچتے اور وہموں کو بتوں کی طرح اپنی بغل میں رکھتے ہیں إن العقول على النقول شواهد تحتاج أثقال إلى ميزان عقلیں نقلوں پر گواه ہیں بوجہ میزان کے محتاج ہوتی ہیں إن النُّهى مَلَكَتْ يَدَاهُ قُلُوبَنَا ونرى بـريـق الـحـق بالبرهان عقل کے دونوں ہاتھ ہمارے دلوں کے مالک ہیں اور حق کی روشنی ہم برہان سے ہی دیکھتے ہیں إن العدا يئسوا إذا كُشِفَ الهدى فاليوم ليس لهم بذاك يـدان دشمن نومید ہو گئے جب کہ ہدایت کھل گئی پس آج ان کو اس کے ساتھ مقابلہ کے ہاتھ نہیں يا لاعنى خَفْ قَهْرَ ربِّ قادر والله إنى مسلم ذو شان اے میرے لعنت کرنے والے خدا تعالیٰ کے قہر سے ڈر اور بخدا میں ایک مسلمان ذی شان ہوں والله إني صادق لا كاذب شهدت سماء الله والملوان اور بخدا میں صادق ہوں نہ کاذب آسمان اور رات دن نے گواہی دے دی وَدَّعُتُ أهوائي لحب مهيمني و تركت دنياكم بعطف عنانى (۳۳) حرص و ہوا کو میں نے خدا تعالیٰ کے لئے رخصت کر دیا اور تمہاری دنیا کو چھوڑا اور اس سے منہ پھیر لیا سے بیزار ہو گیا وتعلقت نفسى بحضرة ملجأى وتبرأت من كل نَشب فاني اور میرا نفس حضرت پروردگار سے تعلق پکڑ گیا اور ہر یک مال فانی لا تعجلوا وتفكروا وتَدبَّروا والعقل كل العقل في الإمعان مت جلدی کرو اور فکر کرو اور سوچو اور تمام عقل غور کرنے میں ہے إن كنت لا تبغى الهدى وتُكذِّبُ فأضــــرنـي بجوارح ولسان اور اگر تو ہدایت کو قبول نہیں کرتا اور تکذیب کرتا ہے سو مجھے اپنے ہاتھ پیر اور زبان سے دکھ پہنچا والْعَنُ ولعن الصادقين وسبهم متوارث من قادم الأزمان رہ اور سچوں کو لعنت کرنا قدیم زمانہ سے لوگوں کی ورثہ چلی آئی ہے اور لعنت کرتا