نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 223

روحانی خزائن جلد ۸ ۲۲۳ نور الحق الحصة الثانية السيف أنفاسي ورمحی کلمتی ما جئتـكـم كــمــــحارب بسنان میرے انفاس میری تلوار ہیں اور میرے کلمات میرے نیزے ہیں اور میں جنگجو کی طرح نیزہ کے ساتھ نہیں آیا حق فلا يسع الورى إنكاره فاترُك مراء الجهل والكفران یہی سچ ہے پس انکار پیش نہیں جا سکتا سو جہالت اور ناسپاسی کی لڑائی کو چھوڑ دے يا طالب الرحمن ذى الإحسان قُمُ وَالِها واطلبه كالظمآن اے خدا ذوالاحسان کے طلب کرنے والے شیفتہ کی طرح اٹھ اور پیاسے کی طرح اس کو ڈھونڈ بادر إلى سأخبرنك مشفقًا عن ذلك الوجه الذي أصباني میری طرف دوڑ کہ میں تجھے شفقت کی راہ سے خبر دوں گا اس منہ سے جس نے مجھے اپنی طرف کھینچا أحرق قراطيس البغاوة والإبا واركن إلى الإيقان والإذعان (٣١) بغاوت اور سرکشی کے کاغذات جلا دے اور یقین کی طرف جھک جا أعطيت نورًا من ذكاء مهيمني الأنير وجه البر والعمران مجھے اپنے خدا کے آفتاب سے ایک نور ملا ہے تاکہ میں جنگلوں اور آبادیوں کو روشن کروں بارزتُ لِلهِ المهيمن غيرةً أدعو عدو الدين في الميدان میں اللہ تعالیٰ کے لئے غیرت کی راہ سے میدان میں نکلا ہوں اور دشمن دین کو میدان میں بلاتا ہوں والله إنى أوّل الشجعان وستعرفن إذا التقى الجمعان اور بخدا میں سب بہادروں سے پہلے ہوں اور عنقریب تجھے معلوم ہوگا جب دونوں لشکر ملیں گے من كان خصمي كانَ رَبّى خَصْمَهُ قد بارز المولى لمن باراني جو شخص میرا دشمن ہو خدا تعالیٰ اس کا دشمن ہوگا خدا اس کے مقابلہ پر نکلا جس نے میرا مقابلہ کیا إني رأيت يد المهيمن حافظي ومؤيدي في سائر الأحيان میں نے خدا کا ہاتھ اپنا محافظ دیکھا اور ہر ایک وقت میں اپنا موید پایا من فضله إني كتبت معارفا أدخلت بحر العلم في الكيزان یہ اس کے فضل سے ہے جو میں نے معارف لکھے لکھے اور علم کا دریا کوزہ میں داخل کر دیا