نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 174

روحانی خزائن جلد ۸ ۱۷۴ نور الحق الحصة الأولى إلا تهمة مذاع ذى البهتانات وإني من المبرئين۔ وإن العدو ما ایک دروغ گو بہتان تراش کی تہمت ہے اور میں اس سے بری ہوں۔ اور دشمن معترض نے عرف الحقيقة ونسى الطريقة، فإني آكل أجزاء غذائية التي حقیقت کو نہیں سمجھا اور جلدی کی اور طریقہ کو بھول گیا کیونکہ میں ان اجزاء غذائیہ کو کھاتا ہوں تنفصل من الهضم المعدى بإذن خالق الأشياء ، وتدفعها الطبيعة | جو ہضم معدے سے باذن خالق الاشیاء الگ ہوتی ہیں اور پھر طبیعت ان کو ۱۳۲) إلى بعض الأمعاء ، فتخرج من المبرز المعلوم مع قليل من بعض امعاء کی طرف رد کرتی ہے پس وہ فضلات مبرز معلوم سے نکلتے ہیں اور تھوڑا سا صفراء ان کے ساتھ الصفراء ، فهذا شيء آخر وليس ببراز كما هو زعم الأعداء ، بل ہوتا ہے پس یہ تو اور چیز ہے گوہ نہیں ہے جیسا کہ دشمنوں نے خیال کیا ہے۔ بلکہ یہ تو ایک غذا ہے جو ہمارے جیسے هو غذاء أُعِدَّ لمثلنا الطيبين۔ پاکوں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ فاتقوا هذا المثال وفكروا في سوانح المسيح وفيما قال۔ وكل پس اس مثال سے ڈرو اور مسیح کے سوانح میں غور کرو اور ان باتوں میں جو اس نے فرمائیں اور جو کچھ عیسی نبی ما قال عيسى نبى الله فهو طيب، ولكن تعسًا للذى لا يفهم الأقوال اللہ نے فرمایا تھا وہ تو پاک تعلیم تھی مگر ان پر واویلا جنہوں نے ان باتوں کو نہ سمجھا اور تعلیم کو وإنا نبكي على حال الظالمين والمؤذين الكالمين، بل ندعو الله أن يهديهم بدل دیا اور ہم ظالموں کے حال پر اور دکھ دینے والوں اور دل خستہ کرنے والوں پر روتے ہیں بلکہ دعا ويرحمهم وهو خير الراحمين۔ ووالله إنا لا نضحك بل نبكي على کرتے ہیں کہ خدا ان کو ہدایت دے اور ان کے حال پر رحم کرے اور وہ ارحم الراحمین ہے۔ حالكم أنكم تسترون الأمر وتتكلّفون أيها الجائرون۔ ما لكم لا تفهمون؟ اے ظالمو ! تمہیں کیا ہوا کہ تم سمجھتے نہیں