نورالحق حصہ اوّل — Page 167
روحانی خزائن جلد ۸ ۱۶۷ نور الحق الحصة الأولى وأما نظيره في أشعار بلغاء الجاهلية ونبغاء الأزمنة الماضية، لیکن اگر تو جاہلیت کے نامی شعراء اور فصحاء کے اشعار میں سے اس کی نظیر طلب کرے پس تیرے لئے ایک فكفاك ما قال امرؤ القيس في قصيدته اللامية شعر امرء القیس کے قصیدہ لامیہ کا کافی ہے کیونکہ اس نے کہا ہے ۔ دَرِيرٍ كَخُذُرُوفِ الوَلِيدِ أَمَرَّهُ تتابعُ كَفَّيْهِ بِخَيْطٍ مُوَصَّلٍ امره یعنی بٹ دیا اور مروڑ دیا وكذلك بيت لعمرو بن كلثوم التغلبي الذي هو نابغ في اللسان العربي، وقال اور اسی طرح عمر و بن كلثوم تغلبی کا ایک شعر ہے اور وہ بھی اپنے وقت کا بدیہہ گو شاعر تھا اور اس نے یہ في القصيدة الخامسة من السبع المعلقة، ونحن نكتبه نظيرًا لمعنى الإدارة، وهو هذا ۔ میں کہا ہے که عليه لما له فيها مهينا شعر قصیده خامسه سبعہ معلقہ تَرَى اللَّحِزَ الشَّحِيحَ إِذا أُمِرَّتْ امرت یعنی چکر دیا جائے اور پھرایا جائے ومن عجائب لفظ المرّة اشتراكه فى العربية والهندية في معنى الإدارة اور لفظ مرہ کے عجائبات میں سے یہ ہے کہ وہ اپنے معنے بٹ دینے اور مروڑ دینے میں عربی اور ہندی میں مشترک ہے۔ وإحكام الفتل بالمبالغة، فإن الهنديين يقولون للإمرار مرورنا كما لا ہندی لوگ امرار کو مروڑنا کہتے ہیں جيسا که کیونکہ يخفى على الهنديين۔ وهذا ثبوت صريح من غير شائبة المين لاستخراج ۱۲۷ ہندیوں پر پوشیدہ نہیں۔ اور یہ صریح ثبوت بغیر شائبہ کسی تاریکی کے ہے اور اس اصل حقیقت کا استخراج أصل حقيقة الذي هو دائر بين اللسانين، وفيه نكتة تسر المحققين۔ اس سے ہوتا ہے جو دو زبانوں میں دائر ہے اور اس میں ایک نکتہ ہے جو محققین کو خوش کرتا ہے ۔ وأما لفظ ذِي مِرَّة بمعنى العقل، فإن كُنتَ تطلب منا نظيره مع لیکن لفظ ذى مرة جو بمعنے عقل کے آتا ہے اگر تصحیح نقل کے لئے اس کی نظیر معلوم کرنا ہو