نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 146

روحانی خزائن جلد ۸ ۱۴۶ نور الحق الحصة الأولى ودرره وثمار الكلام وزهره، وكانوا يناضلون بالقصائد المبتكرة اور نیز کلام کے پھلوں اور پھولوں پر ناز کرتے تھے اور ان کی لڑائیاں نو ایجاد قصیدوں اور پاکیزہ والخطب المحبرة، ولكن ما كان لهم أن يتكلموا في اللطائف خطبوں کے ساتھ ہوتی تھیں مگر ان کو لطائف حکمیہ میں بات کرنے کا سلیقہ نہ تھا الحكمية، وما مست بيانهم رائحة المعارف الإلهية، بل كان مسرح اور ان کے بیان کو معارف الہیہ کی بو بھی نہیں پہنچی تھی بلکہ ان کے فکروں کا چراگاہ أفكارهم إلى الأبيات العشقية، والأضاحيك الملهية، وما كانوا صرف عشقیہ شعروں اور ہنسانے والے اور غافل کرنے والے بیتوں تک تھا اور مضامین حکمیہ کی علی ترصیع مضامين الحكم قادرين۔ وكانوا قد مرنوا من سنين على نظم مرصع نگاری پر وہ قادر نه تھے حالانکہ وہ ایک زمانہ سے اور أنواع النظم والنثر ولطائف البيان، وسُلِّموا وقبلوا في الأقران نثر اور لطائف بیان کے مشتاق تھے اور اپنے ہم جنسوں میں مسلم اور مقبول تھے اور اہل زبان اور وكانوا أهل اللسان وسوابق الميادين۔ فخاطبهم الله وقال إِنْ كُنْتُمْ فِي میدانوں میں سبقت کرنے والے تھے۔ پس خدا تعالیٰ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اگر تمہیں اس کلام میں شک ہو جو رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ ۔ ۔ فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ ہم نے اپنے بندہ پر اتارا ہے تو تم بھی کوئی سورت اس کی مانند بنا کر لاؤ اور اگر بنا نہ سکو اور یاد رکھو کہ ہرگز تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَفِرِينَ وَقال بنا نہیں سکو گے سواس آگ سے ڈرو جس کے ہیزم افروختنی آدمی اور پتھر ہیں اور وہ آگ کافروں کے لئے طیار کی گئی قُلْ لَبِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسَ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هُذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ ہے۔ اور فرمایا کہ اگر تمام جن وانس اس بات کے لئے اکٹھے ہو جائیں کہ اس قرآن کی کوئی مثل بنا لاویں تو بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا، فعجز الكفار عن ہرگز نہیں لاسکیں گے اگرچہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔ پس کفار مقابلہ سے عاجز آ گئے البقرة: ۲۴، ۲۵ ۲ بنی اسرآئیل : ۸۹