نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 141

روحانی خزائن جلد ۸ ۱۴۱ نور الحق الحصة الأولى وہ تمام مضمون لکھا ہے ہم اس سے صرف مقتبس فقروں کی نسبت اپنا اتفاق ظاہر کرتے ہیں اور جو شکایت صاحب موصوف پادری عماد الدین کی تصنیفات کے بارہ میں کرتے ہیں بلحاظ ملکی مصلحتوں ﴿۲﴾ کے ہم اتنا زیادہ کہتے ہیں کہ اس کی تصنیفات سے جس کا حوالہ اوپر درج ہے بلا شبہ ملکی امن میں خلل پڑ سکتا ہے اور وہ کچھ عجیب ڈھنگ سے مرتب ہوئی ہیں کہ جن کو فی الجملہ شرارت انگیز بلکہ شر خیز کہنا ذ را بھی غیر حق بات نہیں۔ ایسے ایسے ملکی شور وشر کے حق میں جو اس قسم کی کتابوں سے پیدا ہوتا ہے بقول وقائع نگار موصوف کے سرکار کی طرف سے مناسب انتظام لا بد ہے۔ ہم بتلا سکتے ہیں کہ دانشمند گورنمنٹ نے اس طرح کے معاملات میں دخل دیا ہے۔ چنانچہ اسی ہندوستان کے اندر لارڈ ولزلے صاحب سابق گورنر جنرل نے ۱۷۹۸ء میں ہندوؤں کی رسم جل پر وا کو حکماً بند کر دیا اور ۱۸۲۷ء کے اندر لارڈ ولیم بٹنگ صاحب گورنر جنرل نے ستی کی قدیم رسم کو قانون مرتب کر کے موقوف کروا دیا۔ گورنمنٹ اس بات کو معلوم کر لے کہ کیوں ہندوستان کے مسیحی مصنفوں میں سے تمام لوگ پادری عمادالدین ہی کو انگشت نما کرتے ہیں اس کی یہ وجہ ہے کہ وہ بھی یہی چاہتا ہے کہ میری تالیفات سے عام لوگ مذہبی ولولہ میں آکر اور حرارت سے مغلوب ہو کر بے ادائیاں کریں اور سر کار میں مفسد شمار ہو جاویں۔ ہم نے سنا ہے کہ پنجاب ٹریکٹ سوسائٹی کی پبلشنگ کمیٹی نے شورش انگیز کتاب مذکور کے رے حصہ کو اسی وجہ سے نامنظور کیا ہے کہ اس میں پہلے حصہ سے زیادہ دل شکن باتیں درج ہیں۔ اگر یہ بات سچ ہے تو بہت خوب کیا ۔ انتھی ۔ تمام ہوئی عبارت ہندو پر کاش۔ پادری صاحبوں کے شمس الاخبار لکھنو مطبوعہ امریکن مشن پر لیس ۱۵ اکتوبر ۱۸۷۵ء نمبر ۱۵ جلدے باہتمام پادری کریون صاحب صفحہ 9 میں لکھا ہے کہ نیاز نامہ جس کے مصنف صفدر علی صاحب بہادر مسیحی اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر ضلع ساگر ملک متوسط ہند ہیں۔ عماد الدین کی تصنیفات کی مانند نفرتی نہیں کہ جس میں گالیاں لکھی ہوئی ہیں اور اگری ہوئی ہیں اور اگر ۱۸۵۷ء کے مانند پھر غدر ہوا تو اسی شخص کی بد زبانیوں اور بیہودگیوں سے ہوگا۔ جب ان کو باہر پندرہ روپیہ کو بھی کوئی نہ پوچھے اور مشن ستر روپیہ ماہوار اور کوٹھی ملے جس کے احاطے کے اندر چاہیں تو تیل نکالنے کا کولہو بھی بنالیں۔ ایسے لالچیوں کو کیا کہنا چاہیے۔ انتہی ۔ بعينه نقل کالاصل ☆☆☆۔