نورالحق حصہ اوّل — Page 112
روحانی خزائن جلد ۸ ۱۱۲ نور الحق الحصة الأولى أمهاتهم، وأشركوا في تلك التجارة نساء أصدقائهم وأزواج ماؤں کے پیروں سے زیور اتارے اور اس تجارت میں ان لوگوں کو بھی شریک کر لیا جو ان کے دوستوں کی عورتیں اور ان کے أحبائهم، بل نسوان جيرانهم وعذارى أقرانهم، وغادروهن كأشجار آشناؤں کی بیویاں تھیں بلکہ اپنے ہمسائیوں کی عورتوں اور اپنے ہم مرتبہ لوگوں کی کنواریاں لڑکیوں کوبھی اس تجارت میں داخل کیا خالية من ثمار وغادر كل أحد بيته أنقى من الراحة، طمعا في كثرة اور ان عورتوں کو ایسی حالت میں چھوڑا جیسا کہ درختوں سے پھل اتارا جاتا ہے اور ہر ایک نے اپنے گھر کو ہتھیلی کی طرح المال وزيادة الراحة ثم رجعوا مستبشرين، ونبذوا الحلى أمام يديه صفا چٹ چھوڑا اس طمع سے کہ مال بڑھے گا اور بہت آرام ہوگا پھر خوش خوش واپس آئے ۔ اور آکر اس مکار کے آگے تمام زیور فرحين۔ فلما رأى المكار امتلاء كيسه و انجلاء بؤسه، ورأى حمقهم ڈال دیا اور اس حرکت کرنے کے وقت بہت خوش تھے پس جبکہ اس مکار نے دیکھا کہ اس کا تھیلا بھر گیا اور سختی جاتی رہی اور یہ وجهلهم، فرح فرحا شديدًا، ووجد نفسه غنيا صنديدا، قال أعلم أنكم بھی دیکھا کہ یہ لوگ کیسے احمق اور جاہل ہیں تو بہت ہی خوش ہوا اور اپنے تئیں ایک غنی رئیس کی طرح پایا کہنے لگا کہ میں جانتا ذوو حظ عظيم ومن الفائزين، وستجتنون جنى عملكم وتعلون ہوں کہ تم لوگ بڑے ہی خوش قسمت ہو اور ان میں سے ہو جو مراد پاتے ہیں اور عنقریب تم اپنے عمل کا پھل چنو گے اور اپنے مطاجملكم، وتذكرونني إلى أبد الآبدين۔ اونٹ پر سوار ہو گے اور ہمیشہ مجھے یا درکھو گے۔ ثم قال يا معشر الأخيار وأكباد هذه الديار، اعلموا أن هذا پھر کہنے لگا کہ اے نیکوں کے ٹولو اور اس ولایت کے جگر گوشو آپ لوگ یقیناً جانیں کہ یہ عمل العمل من الأسرار، وقد وجب إخفاءها من الأغيار، ومن أشراط هذه اسرار میں سے ہے اور غیروں ہے چھپانا اس کا واجب ہے اور اس کی شرطوں میں سے ہے جو الرقية قراءتها في الزاوية على شاطئ الوادي عند نهر جار في اس کو گوشہ خلوت میں پڑھیں کسی جنگل کے کنارہ پر اس جنگل میں جہاں نہر بھی سے سہو کتابت معلوم ہوتا ہے کنواری “ ہونا چاہیے۔(ناشر)