نورالحق حصہ اوّل — Page 99
روحانی خزائن جلد ۸ ۹۹ نور الحق الحصة الأولى وكانوا لا ينطقون من الهوى بل بوحي يوحى، فكأنهم صاروا روح اور وہ روح القدس کے بلائے بولتے تھے نہ اپنی خواہش سے اور گویا وہ روح القدس ہی ہو گئے تھے جس کے ساتھ نفس کی القدس فقط لا نفس معه ولا أعراضها ۔ ثم اعلم أن الأنبياء كنفس آمیزش نہیں پھر جان کہ انبیاء ایک ہی جان کی طرح ہیں۔ نہیں کہہ سکتے کہ واحدة ، لا يقال إنهم أرواح بل يقال إنهم روح، وذلك لشدة وہ کئی روح ہیں بلکہ کہنا چاہیئے کہ وہ ایک ہی روح ہے اور یہ اس لئے کہ ان میں روحانی طور پر نہایت درجہ پر اتحاد اتحادهم الروحانية وتناسب جوهرهم الإيمانية، وبما أنهم فنوا من واقع ہے اور جو ہر ایمانی کی ان میں مناسبت غایت مرتبہ پر ہے اور نیز اس لئے کہ وہ اپنے نفس اور اپنی جنبش اور اپنے أنفسهم وحركاتهم وسكناتهم وأهوائهم وجذباتهم، وما بقى فيهم سکون اور اپنی خواہشوں اور اپنے جذبات سے بکلی فنا ہو گئے اور ان میں بجز روح القدس کے إلا روح القدس، ووصلوا الله متبتلين منقطعين، فأراد الله أن يبين کچھ باقی نہ رہا اور سب چیزوں سے توڑ کے اور قطع تعلق کر کے خدا کو جاملے پس خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اس آیت میں في هذه الآية مقام تجرُّدِهم ومراتب تقدسهم وتطهرهم من أدناس ان کے تجرد اور تقدس کے مقام کو ظاہر کرے اور بیان کرے کہ وہ جسم اور نفس کے میلوں سے کیسے دور ہیں الجسم والنفس، فسماهم روحًا إظهارا لجلالة شأنهم وطهارة پس ان کا نام اس نے روح یعنی روح القدس رکھا تا کہ اس لفظ سے ان کی شان کی بزرگی اور ان کے دل کی پاکیزگی جنانهم، وأنهم سيلقبون بهذا اللقب في يوم القيامة ليُرِيَ اللَّهُ خَلْقَه کھل جائے اور وہ عنقریب قیامت کو اس لقب سے پکارے جائیں گے تا کہ خدا تعالیٰ لوگوں پر ان کا مقام انقطاع مقام انقطاعهم، وليميز بين الخبيثين والطيبين۔ ولَعَمُرِ اللَّهِ إِن هذا هو ظاہر کرے اور تاکہ خبیثوں اور طیبوں میں فرق کر کے دکھلاوے۔ اور بخدا یہی بات حق ہے الحق، فتدبروا في كتاب الله ولا تنكروا مستعجلين۔ وأما عيسى (۷۵) پس تم کتاب اللہ میں تدبر کرو اور جلد بازی سے انکار مت کرو۔ مگر عیسی