نورالحق حصہ اوّل — Page 85
روحانی خزائن جلد ۸ ۸۵ نور الحق الحصة الأولى اور بہتیرے سفید رنگ عورتوں کے فریفتہ ہیں إلى الدنيا أوى حزب الأجاني وحسبوها جَنَّى حُلُو المجاني ان لوگوں نے جو بہت ہی گناہوں میں مبتلا ہیں دنیا کو اپنا جا پناہ قرار دیا ہے اور دنیا کو ایک شیریں اور سہل الحصول میوہ سمجھ لیا ہے نسوا من جهلهم يوم المعاد وتركوا الــديــن مــن حـب الـدنـانِ اپنی نادانی کے سبب سے ۔ سے معاد کے دن کو بھلا دیا ہے اور شراب کے خموں سے پیار کر کے دین کو چھوڑ دیا ہے تراهـــم مــائـلــيـن إلى مُدام وغيـد والـغـــــوانــي والأغــاني تو دیکھتا ہے کہ شراب کی طرف یہ لوگ جھک گئے اور ایساہی نازک اندام اور حسین عورتیں اور گیت انکے دلوں کو کھینچتے ہیں وكم منهم أسارى عَينِ عِينٍ ومشغوفين بالبيض الحسان اور بہتیرے ان میں سے بڑی بڑی آنکھوں والی عورتوں کے قیدی ہیں لهن على بعولتهن حكم ترى كلا كمنطلق العنان (۲۲) وہ عورتیں اپنے خاوندوں پر حکم کرتی ہیں اور سب مطلق العنان اور بے پردہ اور شراب خوار ہیں دماء العاشقين لهنَّ شغل بعين أخـجـلـت بـي الـقـنـان اپنے عاشقوں کو قتل کرنا ان عورتوں کا کام ہے آل قتل اُنکی آنکھ ہے جو پہاڑوں کے ہرنوں کو شرمندہ کرتی ہے ومِن عَجَب جفون فاترات أرين الخلق أفعال السنان اور تعجب تو یہ ہے کہ وہ پلکیں جو سست اور نیم خواب ہیں لوگوں کو برچھیوں کا کام دکھلا رہی ہیں بناظرة تصيد الناس لمحا تفوق بـلـحـظـهـا رُمحَ الطَّعانِ وہ عورتیں اپنی آنکھ کی نیم نگاہ سے لوگوں کو شکار کرتی ہیں جن کے گوشہ چشم کی ہلکی سی نظر نیزوں کے زخم پر فوقیت رکھتی ہے وأنى الأمن من تلك البلايا سوى الله الذي مَلِكِ الأمان اور ان بلاؤں سے نجات پانا لوگوں کے لئے غیر ممکن ہے بجز اس کے کہ اس خدا کا رحم ہو جو امان بخشنے کا بادشاہ ہے فعشاق الغواني والمثانى أضاعوا الدين من تلك الأماني سو جو لوگ عورتوں اور سرودوں کے عاشق ہیں انہوں نے انہیں آرزوؤں کے پیچھے دین ضائع کیا ہے يصدون الورى من كل خير ويغتاظـون مـن تـخـلــيـص عانى لوگوں کو وہ ہر یک نیکی کے کام سے روکتے ہیں اور اس بات سے غصہ کرتے ہیں کہ کسی قیدی کو رہا کر دیا جائے