نورالحق حصہ اوّل — Page 81
روحانی خزائن جلد ۸ M نور الحق الحصة الأولى بفوج من الشياطين، فليتـذكـر مـن كان من المتذكرين۔ كذلك شیاطین کی ایک فوج کے ساتھ نکلے گا سو اسی طرح وہ ہزار برس کے بعد نکلے۔ خلصوا بعد الألف وتناسوا ذمام الله ونكثوا عهوده واحفظوا ربهم اور خدا کی حرمت اور اس کے عہد کو بھلا دیا اور کل عہدوں کو توڑ دیا اور شوخیاں کر کے اپنے رب کو غصہ دلایا مجترئين۔ وجمعوا كل جهدهم لإضلال الناس، واستجدوا المكائد اور اپنی تمام کوششوں کو لوگوں کے گمراہ کرنے میں اکٹھا کر دیا اور تمام تدابیر کو كالخنّاس، وجاء وا بسحر مبين۔ وأضاعوا التقوى والعمل الصالح، کام میں لائے اور تقویٰ اور نیک عمل کو ضائع کیا اور ایسے کفارہ پر تکیہ واتكأوا على كفارة لا أصل لها، واتبعوا كل إثم واستعذبوا كل عذاب، ۵۹ کر بیٹھے جس کی کچھ بھی اصل نہیں اور ہر ایک گناہ کی انہوں نے پیروی کی اور ہر ایک عذاب کو شیریں وكذبوا المقدسين۔ وتجنوا وقالوا نحن عباد المسيح وأحباؤه، سمجھ لیا اور پاک لوگوں کی تکذیب کی اور کوشش کی جو ان کے عیب ڈھونڈیں اور کہا کہ ہم مسیح کے بندے وهيهات أن تُراجع الفاسقين مِقَةُ الصالحين۔ وقد سمعت آنفًا أن اور اس کے پیارے ہیں مگر یہ کہاں ہو سکتا ہے کہ ایسے فاسقوں کے ساتھ نیک بختوں کا میل جول ہو۔ اور المسيح سماهم فاعلى الظلم، وسمعت أن الظلم والدجل شيء تو ابھی سن چکا ہے کہ مسیح نے ان کا نام ظلم کے مرتکب اور بدکار رکھا ہے اور تو نے یہ بھی سن لیا ہے کہ ظلم واحد، وقد قال الله تعالى أَتَتْ أكُلَهَا وَلَمْ تَظْلِمُ مِنْهُ شَيْئًا، أي لم اور دجالیت ایک ہی چیز ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ اس باغ نے اپنا پورا پھل دیا اور اس میں سے تنقص، وإطلاق الظلم على النقص الذي كان في غير محله أو کچھ کم نہ کیا اور لفظ ظلم کا ایسی کمی پر اطلاق کرنا جو غیر محل ہو یا ایسی الزيادة التي ليست في موضعها أمر شائع متعارف في القوم، وهذا زیادتی پر جو بے موقع ہے ایک ایسا امر ہے جو قوم میں شائع متعارف ہے اور اسی کا الكهف :٣٤