نورالحق حصہ اوّل — Page 76
روحانی خزائن جلد ۸ ۷۶ نور الحق الحصة الأولى (۵۵) منفردا، فنحن في هذه الأوان كغريب في خان، لا كشغب في حماية إخوان۔ اکیلا چھوڑا جاتا ہے سو ہم اس وقت ایک ایسے مسافر کی طرح ہیں جو سرائے میں اترا ہوا ہو نہ ایسے شخص کی طرح لا نريد الـريـاسـة بل آثرنا الخصاصة، ونبذنا فروة إمارة، ورضينا بعباء ةِ فقرٍ جو فساد کرنے والا اور اپنے بھائیوں کی حمایت سے مفسدہ پرداز ہو ہم کسی ریاست کو نہیں چاہتے بلکہ درویشی اختیار وما بالَينا طَعْنَ نُظّارة، ولا لوم اللائمين۔ فلا تُبَادِرُ يا لاهس كأس قسيسين کی اور ہم نے ریاست کی پوستین کو پھینک دیا اور فقیرانہ گودڑی اختیار کر لی اور دیکھنے والوں کے طعن اور ملامت کی کچھ بھی إلى ظن السوء ، ولا تنفُضُ هِذْرَ وَيُك فإن أمرنا متبين واضح وليس شيء پرواہ نہ کی سواے پادریوں کے پیالے چاٹنے والے بدظنی کی طرف جلدی مت کر اور اپنی ٹرین مت ہلا کیونکہ ہمارا حال في يديك، ولست من الحاكمين۔ فإن كنت تشتاق أن تستقرى طرق روشن ہے اور کوئی بات تیرے اختیار میں نہیں اور نہ تو حاکم ہے۔ اور اگر تجھے یہی شوق ہے کہ نکتہ چینی کی راہوں النميمة، فاعلم أنك خائب ولا يحصل لك شيء من غير ظهور سیرک کو ڈھونڈے پس جان رکھ کہ یہ مطلب تیرا پورا نہیں ہوگا اور تو نا مرا در ہے گا اگر ہوگا تو یہی کہ تیری بری خصلتیں ظاہر ہوں الذميمة، ولا تقدر أن تُخفى ما أبداه ربنا، ولا تضر من حفظه الله وهو گی اور تو اس پر قادر نہیں ہو سکے گا کہ جس چیز کو خدا نے ظاہر کیا اس کو چھپاوے اور جس کو خدا نگاہ رکھے تو اس کو ضر ر نہیں خير الحافظين۔ فأعرِضُ عنها واشتغل بنضرة دنياك وخضرتها، واصطبح پہنچا سکتا اور خدا اسب محافظوں سے بہتر ہے۔ پس تو ان باتوں سے کنارہ کر اور اپنی دنیا کی تازگی اور سبزہ میں مشغول رہ اور دن رات شراب پی اور واغتبق وافرح على جيفتها، ولا تدخُل فيما لست أهله، ولا تغضب ولا دنیا کی مُردار پر خوشی کر اور ان باتوں میں دخل مت دے جن کی لیاقت تجھ میں نہیں اور غضب ناک نہ ہو اور مت بھڑک تشتعل، فإن مقت الله أكبر من مقتك، وإن ناره تحرق الظالمين۔ کیونکہ خدا تعالی کا غضب تیرے غضب سے زیادہ ہے اور اس کی آگ ظالموں کو جلا دیتی ہے۔ والعجب أن أكابر المسيحيين خُدعوا فيك، وما عرفوك حق المعرفة اور تعجب کہ بڑے پادریوں نے تجھ میں دھوکا کھایا اور اس وقت تک تجھ کو نہیں پہچانا جیسا کہ حق پہچاننے کا ہے اور سهو والصحيح ” مِذْرَ وَيْكَ “۔ (الناشر)