نورالقرآن نمبر 2

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 468 of 581

نورالقرآن نمبر 2 — Page 468

روحانی خزائن جلد ۹ ۴۶۶ معیار المذاہب اور اس کے غیر میں ما بہ الامتیاز بجز زیادہ ہوشیار اور ذہین ہونے کے اور کیا ہو سکتا ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ آریوں کا پرمیشر اُن بے انتہا قدرتوں سے نا کام ہے جو الوہیت کے کمال کے متعلق ہیں اور یہ اس فرضی پر میشر کی بد قسمتی ہے کہ اس کو وہ کمال تام میسر نہ ہو سکا جو الوہیت کا پورا جلال چمکنے کے لئے ضروری ہے۔ اور دوسری بد نصیبی یہ ہے کہ بجز چند ورق وید کے قانون قدرت کی رو سے اس کے شناخت کرنے کی کوئی بھی راہ نہیں کیونکہ اگر یہی بات صحیح ہے کہ ارواح اور ذرات اجسام معہ اپنی تمام قوتوں اور کششوں اور خاصیتوں اور عقلوں اور ادراکوں اور شعوروں کے خود بخود ہیں تو پھر ایک عقل سلیم ان چیزوں کے جوڑنے کے لئے کسی دوسرے شخص کی ضرورت نہیں سمجھتی وجہ یہ کہ اس صورت میں اس سوال کا جواب دینا امکان سے خارج ہے کہ جو چیزیں اپنے وجود کی قدیم سے آپ ہی خدا ہیں اور اپنے اندر وہ تمام قوتیں بھی رکھتی ہیں جو ان کے باہم جوڑنے کے لئے ضروری ہیں تو پھر جس حالت میں ان کو اپنے وجود کے لئے پر میشر کی حاجت نہیں ہوئی اور اپنی قوتوں اور خاصیتوں میں کسی بنانے والے کی محتاج نہیں ٹھہریں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ان کو باہم تعلق کے لئے کسی دوسرے جوڑنے والے کی حاجت پڑ گئی حالانکہ روحوں کے ساتھ ان کے قومی کا جوڑنا اور ذرات اجسام کے ساتھ ان کی قوتوں کا جوڑنا یہ بھی ایک جوڑنے کی قسم ہے پس اس سے تو یہ ثابت ہی ہو گیا کہ ان قدیم چیزوں کو جیسا کہ اپنے وجود کے لئے کسی خالق کی ضرورت نہیں اور اپنی قوتوں کے لئے کسی موجد کی حاجت نہیں ایسا ہی باہم جوڑ پیدا ہونے کے لئے کسی صانع کی حاجت نہیں اور یہ نہایت بے وقوفی ہوگی کہ جب اول خود اپنی ہی زبان سے ان چیزوں چیزوں کی نسبت مان لیں کہ وہ ا وہ اپنے وجود اور اپنی