نورالقرآن نمبر 2

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 399 of 581

نورالقرآن نمبر 2 — Page 399

روحانی خزائن جلد ۹ ۳۹۷ نور القرآن نمبر ۲ اس بات کو کون نہیں جانتا ۔ کہ ہندوستان اور پنجاب میں کم سے کم ۴۵ برس سے یہ بے اعتدالیاں شروع ہیں ۔ ہمارے سید و مولی حضرت خاتم الانبیاء سید المطهرين افضل الاولین والآخرین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر گالیاں دی گئی ہیں اور اس قدر قرآن کریم کو بے جاٹھٹھے اور ہنسی کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ دنیا میں کسی ذلیل سے ذلیل انسان کے لئے بھی کسی شخص نے یہ لفظ استعمال نہیں کئے یہ کتا بیں کچھ ایک دو نہیں بلکہ ہزار ہا تک نوبت پہنچ گئی ہے اور جو شخص ان کتابوں کے مضمون پر علم رکھ کر اللہ جل شانہ اور اس کے رسول پاک کے لئے کچھ بھی غیرت نہیں رکھتا وہ ایک لعنتی آدمی ہے نہ مولوی ۔ اور ایک پلید حیوان ہے نہ انسان ۔ اور یاد رہے کہ ان میں بہت سی ایسی کتابیں ہیں جو میرے بلوغ کے ایام سے بھی پہلے کی ہیں اور کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ ان کتابوں کی تالیف کا یہ موجب تھا کہ میں یا کسی اور مسلمان نے حضرت مسیح علیہ السلام کو گالیاں دی تھیں جس سے مشتعل ہو کر پادری فنڈل اور صفدر علی اور پادری ٹھا کر داس اور عمادالدین اور پادری ولیمس ریواری نے وہ کتابیں تالیف کیں کہ اگر ان کی گالیاں اور بے ادبیاں جمع کی جائیں تو اس سے سو جز کی کتاب بن سکتی ہیں اور ایسا ہی کوئی اس بات کا ثبوت نہیں دے سکتا کہ جس قدر گالیاں اور بے ادبیاں پنڈت دیا نند نے اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیں اور دین اسلام کی توہین کی یہ کسی ایسے اشتعال کی وجہ سے تھیں جو ہماری طرف سے ہوا تھا ایسا ہی آریوں میں سے لیکھرام وغیرہ جو اب تک گندی کتا بیں چھاپ