نورالقرآن نمبر 2

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 364 of 581

نورالقرآن نمبر 2 — Page 364

روحانی خزائن جلد ۹ ۳۶۲ نور القرآن نمبرا ۲۵ ۲۴ سے بلکہ اپنے اقراروں سے مان لیا ہے پس اس سے ببداہت نتیجہ نکلا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم در حقیقت ایسے وقت میں آئے تھے جس وقت میں ایک سچے اور کامل نبی کو آنا چاہیے۔ پھر جب ہم دوسرا پہلو دیکھتے ہیں کہ آنجناب صلعم کس وقت واپس بلائے گئے تو قرآن صاف اور صریح طور پر ہمیں خبر دیتا ہے کہ ایسے وقت میں بقیہ حاشیہ: تعلیم سے ایسے مطابق پڑے ہیں کہ ہم بجز اس کے اور کوئی بھی رائے ظاہر نہیں کر سکتے کہ یہ تمام ہندوؤں کے عقیدوں کی نقل کی گئی ہے۔ ہندوؤں میں ترے مورتی کا بھی عقیدہ تھا جس سے برھا۔ بشن ۔ مہادیو کا مجموعہ مراد ہے۔ سو تثلیث ایسے عقیدے کا عکس کھینچا ہوا معلوم ہوتا ہے مگر عجیب بات یہ ہے کہ جو کچھ سیح کے خدا بنانے کے لئے اور عقلی اعتراضوں سے بچنے کے لئے عیسائی لوگ جوڑ توڑ کر رہے ہیں اور مسیح کی انسانیت کو خدائی کے ساتھ ایسے طور سے پیوند دے رہے ہیں جس سے ان کی غرض یہ ہے کہ کسی طرح عقلی اعتراضوں سے بچ جائیں اور پھر بھی وہ کسی طرح بچ بھی نہیں سکتے اور آخر اسرار الہی میں داخل کر کے پیچھا چھوڑاتے ہیں بعینہ یہی نقشہ ان ہندوؤں کا ہے جو رام چندر اور کرشن کو ایشر قرار دیتے ہیں یعنی وہ بھی بعینہ وہی باتیں سناتے ہیں جو عیسائی سنایا کرتے ہیں اور جب ہریک پہلو سے عاجز آ جاتے ہیں ۔ تب کہتے ہیں کہ یہ ایک ایشر کا بھید ہے اور انہیں پر کھلتا ہے جو جوگ کماتے اور دنیا کو نیا گئے اور تپسیا کرتے ہیں لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ یہ بھید تو اسی وقت کھل گیا جبکہ ان جھوٹے خداؤں نے اپنی خدائی کا کوئی ایسا نمونہ نہ دکھلایا جو انسان نے نہ دکھلایا ہو۔ سچ ہے کہ گرنتھوں میں یہ قصے بھرے پڑے ہیں کہ ان اوتاروں نے بڑی بڑی شکتی کے کام کئے ہیں مردے جلائے اور پہاڑوں کو سر پر اٹھالیا۔ لیکن اگر ہم ان کہانیوں کو سچ مان لیں تو یہ لوگ خود قائل ہیں کہ بعض ایسے لوگوں نے بھی کر شمے دکھلائے جنہوں نے خدائی کا دعوی نہیں کیا ۔ مثلاً ذرہ سوچ کر دیکھ لو کہ کیا مسیح کے کام موسیٰ کے کاموں سے بڑھ کر تھے بلکہ مسیح کے نشانوں کو تو تالاب کے قصہ نے خاک میں ملا دیا کیا آپ لوگ