نورالقرآن نمبر 1 — Page 455
روحانی خزائن جلد ۹ لده الله نور القرآن نمبر ۲ بے کو زندہ کر رہا ہے ۔ ہمارا حامی و مددگار ہو رہا ہے ہمارے دشمنان دین کو زیر قدم کر رہا ہے کرامت کا جو آج کل بے نام و نشان ہے دعویٰ کر رہا ہے ۔ جیسا کہ لائق ہے اس پر کفر کے فتوے لگاتے ہیں ۔ ویل ان لوگوں پر جو ایسا خیال رکھتے ہیں فی زمانه فلسفه طبعی والوں کے نزدیک کرامت کوئی چیز نہیں ۔ دیکھئے فرقہ نیچر یہ عجب ڈھب کا نکلا ہے کہ جس وقت ایسی بحث آ کر ہوتی ہے تو فوراً کہہ دیتے ہیں کوئی نہیں کر کے دکھلائے اگر کرامت کا قائل ہے اگر کرامت یا معجزات نعوذ باللہ بے وجود سمجھے جاتے ہیں تو اس کا اثر بد کہاں تک پہنچتا ہے یہ شکر کا مقام تھا کہ ہماری کشتی جو بھنور میں چکرا رہی تھی ایک ملاح نے اس کو آ کر نکال لیا اس کو تسلیم کرتے نہ اس پر الزام کذب وفریب لگاتے ۔ اس وقت یہ بندہ کہتا ہے کہ جیسا مجھ کو معلوم ہوا ہے اور وہ حق ہے تو بے شک امام ہمام میرزا غلام احمد صاحب مجدد وقت ہیں اور میں بصد اشتیاق ان کے دیدار کا طالب ہوں اور شب و روز اللہ جل وعلیٰ سے مستدعی ہوں کہ اگر مرزا صاحب کو تو نے حق پر بھیجا ہے تو مجھ کو بھی ان کی زیارت سے مشرف کر اور اُسی جماعت مومنین سے شمار کیا جاؤں میں پہلے متذبذب تھا اب یقیناً بعد دریافت ثبوت صحیحہ کہتا ہوں کہ جو میں نے لکھا ہے سب صحیح اور حق ہے اور میں انہیں مجد دصادق سمجھتا ہوں ۔ والسلام ۔ الراقم : عضدالدین از مچھر ایوں ضلع مراد آباد