نورالقرآن نمبر 1 — Page 450
روحانی خزائن جلد ۹ نور القرآن نمبر ۲ دور رہنا چاہتا ہے۔ اس بات میں آپ کے ساتھ کوئی بھی اتفاق نہیں کرے گا کہ تقومی کی راہوں کو اختیار کرنا کمال کے برخلاف ہے۔ اگر انبیاء علیہم السلام تقویٰ کا نمونہ نہ دکھلا دیں تو اور کون دکھلاوے جو خدا ترسی میں سب سے بڑھ کر ہوتا ہے وہی سب سے بڑھ کر تقویٰ بھی اختیار کرتا ہے وہ بدی سے اپنے تئیں دور رکھتا ہے وہ ان راہوں کو چھوڑ دیتا ہے جس میں بدی کا احتمال ہوتا ہے مگر آپ کے یسوع صاحب کی نسبت کیا کہیں اور کیا لکھیں اور کب تک ان کے حال پر روویں کیا یہ مناسب تھا کہ وہ ایک زانیہ عورت کو یہ موقعہ دیتا کہ وہ عین جوانی اور حسن کی حالت میں ننگے سر اس سے مل کر بیٹھتی اور نہایت ناز اور نخرہ سے اس کے پاؤں پر اپنے بال ملتی اور حرام کاری کے عطر سے اس کے سر پر مالش کرتی اگر یسوع کا دل بد خیالات سے پاک ہوتا تو وہ ایک کسی عورت کو نزدیک آنے سے ضرور منع کرتا مگر ایسے لوگ جن کو حرام کا رعورتوں کے چھونے سے مزہ آتا ہے ۔ وہ ایسے نفسانی موقعہ پر کسی ناصح کی نصیحت بھی نہیں سنا کرتے ۔ دیکھو یسوع کو ایک غیرت مند بزرگ نے نصیحت کے ارادہ سے روکنا چاہا کہ ایسی حرکت کرنا مناسب نہیں مگر یسوع نے اس کے چہرہ کی ترش روئی سے سمجھ لیا کہ میری اس حرکت سے یہ شخص بیزار ہے تو رندوں کی طرح اعتراض کو باتوں میں ٹال دیا اور دعوی کیا کہ یہ کنجری بڑی اخلاص مند ہے ۔ ایسا اخلاص تو تجھ میں بھی نہیں پایا گیا ۔ سبحان اللہ یہ کیا عمدہ جواب ہے ۔ یسوع صاحب ایک زنا کار عورت کی تعریف کر رہے ہیں کہ بڑی نیک بخت ہے ۔ دعوئی خدائی کا اور کام ایسے ۔ بھلا جو شخص ہر وقت شراب ۔ اب سے سرمست رہتا ہے اور نجریوں سے میل جول رکھتا ہے اور کھانے پینے میں بھی ایسا اول نمبر کا جو لوگوں میں یہ اس کا نام ہی