نورالقرآن نمبر 1

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 366 of 581

نورالقرآن نمبر 1 — Page 366

۲۷ روحانی خزائن جلد ۹ ۳۶۴ نور القرآن نمبرا لوگ دین اسلام میں داخل ہو گئے ۔ اور یہ آیتیں بھی نازل ہو گئیں کہ خدا تعالیٰ نے ایمان اور تقوی کو ان کے دلوں میں لکھ دیا اور فسق اور فجور سے انہیں بیزار کر دیا اور پاک اور نیک اخلاق سے وہ متصف ہو گئے اور ایک بھاری تبدیلی ان کے اخلاق بقیہ حاشیہ: چرایا ہے کیونکہ ان کی یہ تحریریں اس وقت کی ہیں کہ جب حضرت عیسی کا وجود بھی دنیا میں نہیں تھا۔ پس نا چار ماننا پڑا کہ چور عیسائی ہی ہیں چنانچہ پوٹ صاحب بھی اس بات کے قائل ہیں کہ متثلیث افلاطون کے لئے ایک غلط خیال کی پیروی کا نتیجہ ہے مگر اصل یہ ہے کہ یونان اور ہند اپنے خیالات میں مرایا متقابلہ کے طرح تھے۔ قریب قیاس یہ ہے کہ یہ شرک کے انبار پہلے ہند سے ویدو دیا کی صورت میں یونان میں گئے ۔ پھر وہاں سے نادان عیسائیوں نے چرا چرا کر انجیل پر حاشئے چڑھائے اور اپنا نامہ اعمال درست کیا ۔“ اب ہم اصل معنوں کی طرف توجہ کر کے لکھتے ہیں کہ جبکہ ان تمام فرقوں میں سے ایک فرقہ دوسرے فرقہ کا مکذب ہے تو اس میں کچھ شک نہیں کہ ہر ایک ان میں سے اپنی رائے میں دنیا کی اصلاح اس بات میں دیکھتا ہے کہ اس کے مخالف فرقہ کا اعتقاد نابود ہو۔ اور اس بات کا قائل ہے کہ اس کے مخالف کا عقیدہ نہایت خراب اور غیر صحیح ہے۔ پس جبکہ ہر ایک فرقہ اپنے مخالف پر نظر ڈال کر اس خرابی کو مان رہا ہے تو اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہر یک فرقہ کو بالضرورت اقرار کرنا پڑا ہے کہ در حقیقت آپ کے ہاتھ سے دنیا کی عام اصلاح ظہور میں آئی۔ اور آپ در حقیقت مصلح اعظم تھے۔ ماسوا اس کے ہر یک فرقہ کے محقق اس بات کا اقرار رکھتے ہیں کہ در حقیقت ان کے مذہب کے لوگ اس زمانہ میں سخت بد چلن اور بدراہیوں میں مبتلا ہو گئے تھے۔ چنانچہ اس زمانہ کی بد چلنی اور خراب حالت کے بارے میں پادری فنڈل میزان الحق میں اور محقق پوٹ اپنی کتاب میں اور پادری جیمس کیمرن لیس اپنے لیکچر مطبوعہ مئی ۱۸۸۲ء میں اس بات کے قائل ہیں ۔ ماسوا اس کے حقیقی نیکی اور راہ راست کو پہچاننے والے جانتے ہیں کہ یہ تمام فرقے ایک تاریکی کے گڑھے میں پڑے