نورالقرآن نمبر 1 — Page 343
روحانی خزائن جلد ۹ دریافت کرلو ۔ ۳۴۱ نور القرآن نمبرا اب سوچ کر دیکھو کہ یہ دلیل جو تمہارے سامنے پیش کی گئی ہے یہ ہم نے اپنے ذہن سے ایجاد نہیں کی۔ بلکہ قرآن شریف آپ ہی اس کو پیش کرتا ہے اور دلیل کے دونوں حصے بیان کر کے پھر آپ ہی فرماتا ہے قَدْ بَيَّنَا لَكُمُ الْآيَتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ۔ یعنی اس رسول اور اس کتاب کے منجانب اللہ ہونے پر یہ بھی ایک نشان ہے جس کو ہم نے بیان کر دیا تا تم سوچو اور سمجھو اور حقیقت تک پہنچ جاؤ ۔ حاشیہ قرآن شریف نے جس قدر اپنے نزول کے زمانہ میں ان عیسائیوں وغیرہ کی بد چلنیاں بیان کی ہیں جو اس وقت موجود تھے ۔ ان تمام قوموں نے خود اپنے منہ سے اقرار کر لیا تھا بلکہ بار بار اقرار کرتے تھے کہ وہ ضرور ان بد چلنیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں اور عرب کی تاریخ دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ آباء واجداد کے جن کو اللہ جل شانہ نے اپنے خاص فضل وکرم سے شرک اور دوسری بلاؤں سے بچائے رکھا باقی تمام لوگ عیسائیوں کے بدنمونہ کو دیکھ کر اور ان کی چال و چلن کی بد تا ثیر سے متاثر ہو کر انواع اقسام کے قابل شرم گنا ہوں اور بدچلنیوں میں مبتلا ہو گئے تھے اور جس قدر بد چلنی اور بداعمالی عربوں میں آئی وہ در حقیقت عربوں کی ذاتی فطرت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک نہایت نا پاک اور بد چلن قوم ان میں آباد ہوگئی جو ایک جھوٹے منصوبہ کفارہ پر بھروسہ کر کے هر یک گناہ کو شیر مادر کی طرح سمجھتی تھی اور مخلوق پرستی اور شراب خواری اور ہر یک قسم کی بدکاری کو بڑے زور کے ساتھ دنیا میں پھیلا رہی تھی اور اول درجہ کی کذاب اور دغا باز اور بد سرشت تھی ۔ بظاہر یہ فرق کرنا مشکل ہے کہ کیا اس زمانہ میں فسق و فجور اور ہر ایک قسم کی بد چلنی میں یہودی بڑھے ہوئے تھے یا عیسائی نمبر اول پر تھے مگر ذرہ غور کرنے کے 9 بعد معلوم ہو گا کہ در حقیقت عیسائی ہی ہر ایک بدکاری اور بد چلنی اور مشرکانہ عادات الحديد : ۱۸