نورالقرآن نمبر 1

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 248 of 581

نورالقرآن نمبر 1 — Page 248

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۴۸ منن الرحمن ١٠٢ الحقيقية التي هي من حضرة العزة۔ ان لا تنفك بزمن من الازمنة الثلثة وتكون للمسمى کی شان یہ ہے کہ کسی زمانہ میں بھی وہ مسمی سے الگ نہ ہو اور کبھی بھی کوئی اس سے اس کو كالعرض اللازم و ان تجايؤه في هذه النشأة ولا يفرض فرض فارض كونها في وقت من الامور الگ نہ کر سکے اور انسانی تصنع کی بو بھی اس میں نہ پائی جائے اور دیکھنے سننے والا اس کی المنفكة و لا تكون كالامور المستحدثة المصنوعة و لا توجد فيها ريح التصنعات الانسية و نسبت پکار اٹھے کہ لاریب یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس میزان سے سچ اور جھوٹ کو يقر من استشف جوهرها بانها من رب العالمين۔ فخذ بيديك هذا الميزان۔ ثم اعرف بها من وزن کرو اور مفتری کی راہ نہ چلو بس یہی ہے جو اس مقدمہ میں ہم نے لکھنا چاہا اور نظام صدق ومان۔ ولا تتبع سبل المفترين۔ وهذا آخر ما اردنا من ايراد المقدمة۔ و كتبناها لاراة کے دکھانے کو ہم نے یہ سب قلم بند کیا تم سب کچھ سن ہی چکے ہو اب اس سے فائدہ اٹھاؤ النظام في الرسالة و قد وعيت ما قصصنا عليك من الادلة۔ ففكر فيها واجتن ثمرة البراعة۔ اور خدا سے بصیرت مانگو اور اسی کے ساتھ فیصلہ کرو اور اگر عربی زبان کی اس ملک کے واحكم بما اراك الله و لا تكن كالمتجاهلين۔ و لا يختلج في قلبك ان العربية قد حقرت في لوگوں نے قدر نہیں کی۔ تو اس کی کیا پروا ہے اس لئے کہ ان بگڑی طبیعت کے لوگوں کا اعين سكان هذه البلاد۔ وان جواهرها قد رميت بالكساد فان هذا من فساد اهل الزمان وان قبلہ ہمت بجز چاندی سونے اور کھانے پینے کے برتنوں کے اور کچھ نہیں جب میں نے ان قصوى بغيتهم طلب الصريف والعقيان وحمادى همتهم هوى الموائد والجفان وانهم من موتیوں کو انتظام کے سلک میں منسلک کرنا چاہا تو میرے دل میں ڈالا گیا کہ عربی زبان میں المفتونين واني لما اردت ان انضد جواهر الكلام واسلكها في سمط الانتظام۔ القي في روعي ان ہی انہیں منضبط کروں اور زبان ہندی میں لکھ کر ان کی آب و تاب کو تباہ نہ کروں اور اكتبها في هذه اللهجة۔ و لا اخفى بروقها في البرقة الهندية۔ وأسرح النواظر في النواضر الاصلية۔ میں نے چاہا کہ آنکھوں کے مویشی کے لئے اصلی چراگاہ پیش کروں جو عربی ہے۔