نورالقرآن نمبر 1 — Page 226
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۲۶ منن الرحمن ۸۲) بل قالوا انها هي وحى رب السموات وكذالک رضوا بالخزعبلات و خدعوا زبان سب زبانوں سے زیادہ کامل ہے بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ یہی الہامی زبان ہے اور اسی طرح وہ باطل باتوں قلوبهم بالمفتريات و ما كانوا مستبصرين و تجد لسانهم مجموعة التركيبات خالية | پر خوش ہو گئے اور اپنے دلوں کو افترا کی باتوں سے فریب دیا اور صاحب بصیرت نہیں تھے اور تو ان کی زبان کو عن نظام المفردات كان ربهم ماقدر الا على تاليف المركبات كما ما قدر الا على محض ترکیبوں کا ایک مجموعہ پائے گا اور مفردات کے نظام سے خالی دیکھے گا گویا ان کا خدا صرف مرکبات کی تاليف الابدان من الذرات وكان من العاجزين۔ و اما العربية فقد عصمها الله من هذه تالیف پر قادر تھا جیسا کہ وہ صرف اس بات پر قادر تھا کہ ذروں کے جوڑنے سے بدنوں کو بناوے اور عاجزوں الاضطرارات۔ واعطاها نظامًا كاملا من المفردات۔ وان في ذلك لأية للمتوسمين۔ میں سے تھا ۔ مگر عربی زبان کو خدا تعالیٰ نے ان تمام بے قراریوں سے بچایا اور مفردات کا نظام کامل اس کو بخشا ولا يخفى على لبيب ولا على منشى اديب إنّ الالسنة الأخرى قد احتاجت الى اور اس میں فراست والوں کے لئے نشان ہے اور کسی دانا پر پوشیدہ نہیں اور نہ کسی انشا پرداز ادیب پر کہ دوسری زبا زبانیں نبا ترکیبات شتی و ما استخدمت المفردات کعربي مبين ۔ وانت تعلم ان للمفردات۔ انواع اقسام کی ترکیبوں کی محتاج ہیں اور وہ مفردات سے عربی کی طرح خدمت نہیں لیتیں اور تو جانتا ہے کہ مفردات کو تقدم زمانى على المركبات۔ فانها مناط افترار ثغر التركيب وعليها تتوقف سلسلة مرکبات پر تقدم زمانی ہے کیونکہ ترکیب کے با ترتیب دانت اُسی سے ظاہر ہوتے ہیں اور انہیں پر سلسلہ تالیف او اور التأليف والترتيب فالذي كان مقدما في الطبع والزمان فهو الذي صدر من الرحمن ترکیب کا موقوف ہے۔ پس وہ جو از رو زمانہ اور طبع کے مقدم ہے وہ وہی ہے جو خدا تعالیٰ سے صادر ہوا ہے اور ہر یک واليها ينحل كل مركب عند ذوى العرفان فهل تراى كما نرای او كنت من ترکیب اسی کی طرف منحل ہوتی ہے پس کیا تو اس بات کو دیکھتا ہے جس کو ہم دیکھتے ہیں یا پردہ میں ہے پھر اس میں کچھ المحجوبين۔ ثم لا شك ان الالفاظ التي جمعت عند فقدان المفردات۔ شک نہیں کہ جو الفاظ مفردات کے نہ ہونے کی وجہ سے جمع کئے گئے اور ضرورت پیش آنے سے