نورالقرآن نمبر 1

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 581

نورالقرآن نمبر 1 — Page 188

روحانی خزائن جلد ۹ ۱۸۸ منن الرحمن ۴۴) وما كان هذا اول آلائه بل اني نشأت في نعمائه۔ وانه والاني وربانی اور یہ اس کی کچھ پہلی ہی نعمت نہیں بلکہ میں نے تو اس کی نعمتوں میں ہی پرورش پائی ہے ۔ اور اس نے مجھے واتانی و تولانی و کفلني وصافاني۔ ونجانی و عافانی و جعلنی من دوست رکھا اور میری پرورش کی اور مجھے دوست رکھا اور میرا متولی اور متکفل ہوا اور مجھے نجات دی اور مجھے المحدثين المامورين۔ محد ثین مامورین میں سے کیا۔ واما تفصيل ايات تؤيد اية ام القرى وتبين أن العربية اور ان آیتوں کی تفصیل جو آیت اُم القریٰ کی مؤید ہیں اور جو ظاہر کرتی ہیں جو عربی ام الالسنة والهام الله الاعلى فمنها آية من الله المنان في سورة ام الالسنہ اور الہام الہی ہے سو بہ تفصیل ذیل ہے چنانچہ ان میں سے ایک وہ آیت ہے جو سورہ رحمان الرحمن اعنى قوله خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ! فالمراد من میں ہے یعنی خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ جس کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو بولنا البيان اللغة العربية۔ كما تشير اليه الآية الثانية اعنى قوله تعالى سکھایا ۔ سو بیان سے مراد جس کے معنے بولنا ہے زبان عربی ہے جیسا کہ دوسری آیت اسی کی طرف اشارہ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ فجعل لفظ المبين وصفًا خاصًا للعربية و اشار الى کرتی ہے یعنی عربی مبین سوخدا نے مبین کے لفظ کو عربی کے لئے ایک خاص صفت ٹھہرایا اور اس بات انه من صفاته الذاتية۔ و لا يشترك فيه احد من الالسنة كما لا کی طرف اشارہ کیا کہ یہ لفظ بیان کا عربی کے صفات خاصہ میں سے ہے اور کوئی دوسری زبان اس صفت يخفى على المتفكرين۔ واشار بلفظ البيان الى بلاغة هذا میں اس کی شریک نہیں جیسا کہ فکر کرنے والوں پر پوشیدہ نہیں اور بیان کے لفظ کے ساتھ اس زبان کی اللسان۔ والى انها هي اللسان الكاملة وانها احاطت بلاغت کی طرف اشارہ کیا اور نیز اس بات کی طرف اشارہ کہ یہ زبان کامل اور ہر یک امر مایحتاج پر محیط ہے الرحمن : ۵،۴ ۲ النحل: ۱۰۴