نورالقرآن نمبر 1 — Page 176
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۷۶ منن الرحمن (۳۲) والخيانت كثرت۔ والوقاحت افظعت۔ والضلالت ضنأت۔ وكلبة اور خیانت بہت ہو گئی اور بے حیائی حد سے زیادہ پھیل گئی اور گمراہی کے بہت سے بچے ہو گئے اور بدکاری کی کتیا الفسق اجعلت و نعى الشرّ نُسأت۔ وحامل المواعظ ايتنت۔ اٹھا میں آئی ۔ اور شرارت کی زانیہ کے معمولی دن ٹل گئے اور نصیحتوں کی حاملہ الٹا جنی اور بے ہودہ گوئی کے اونٹ وهجان الهجر سُمِّنت ۔ وعسبرة الحق عُبطَتُ ۔ فما بكت عليها عين موٹے کئے گئے ۔ اور تیز رو اور نجیب اونٹنی سچائی کی ، باوجود جوانی اور تازگی اور صحت کے ذبح کی گئی پیس اس پر کوئی و ما ذرفت بل دابة الباطل سُرحتُ ۔ فرعت حمى الحق حتى بھی نہ رویا اور نہ آنسو بہائے بلکہ باطل کاٹو چرا گاہ میں چھوڑا گیا سو وہ سچائی کے مرغزار کو چر گیا یہاں تک کہ اس تضلّعت۔ فما منعها احد بل ايدى المسلمين وثئت۔ و سيوف العدا کی کو کیس بھر گئیں سو اس کو کسی نے منع نہ کیا بلکہ مسلمانوں کے ہاتھ توڑے گئے اور دشمنوں کی تلواریں میان سے باہر انطلقت ۔ فاخذ الاحرار و لحومهم سُفّدت ثم ندأت ثم خضمت نکل آئیں سو شریف آدمی پکڑے گئے اور ان کے گوشت سیخوں پر چڑھائے گئے پھر بریاں کرنے کے لئے آگ وقضمت والقيامة قامت و هوجاء الفتن اشتدت۔ وسيل الشرور پر رکھے گئے پھر دانتوں سے چبائے گئے اور پیس کر کھائے گئے اور قیامت قائم ہو گئی اور شرارتوں کا سیلاب غالب غلبت۔ و انكسر السكر والمصيبة جلّت۔ ونزلت النوازل وجبات۔ وارض ہوا اور بند ٹوٹ گیا اور مصیبت بھاری ہوگئی اور حوادث اترے اور ایک مرتبہ انہوں نے آپکڑا اور تقوی کی زمین پر التقوى بردت وسماء الصلاح تغيمت والمعصية امتدت و ليلتها جثمت | اولے پڑے اور نیکی کا آسمان بادل کے نیچے چھپ گیا اور بدکاری بہت لمبی ہو گئی اور اس کی رات آدھی چلی گئی ۔ اور والذنوب اغارت وصالت حتى جنبت الصلاح واسعطت والنفوس ندت گنا ہوں نے دھارا مارا اور حملہ کیا یہاں تک کہ نیکی کی پہلی توڑ ڈالی اور اس کے سینہ پر نیزہ مارا اور لوگ آوارہ اور وعين الانصاف رمدت۔ وقروح الخبث تذيأت۔ وكل سليطة بے قید اور سرخود ہو گئے اور انصاف کی آنکھیں رمد کی بیماری میں مبتلا ہوئیں اور پلیدی کے زخم بہت خراب ہو گئے