نورالقرآن نمبر 1 — Page 174
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۷۴ منن الرحمن الخصوم ۔ وجعلوا المسيح الها وقد رأو انه المسكين الجهوم اور مسیح کو خدا بنا دیا حالانکہ جانتے تھے کہ وہ مسکین اور عاجز ہے اور اسی طرح ایسے ہی منحوس دن متواتر وكذالك جاءت الايام الحسوم فنشكوا الى الله ربّ العالمين۔ آ گئے سو ہم یہ گلہ جناب الہی میں کرتے ہیں جو رب العالمین ہے اور اس خدا کی قسم ہے جس نے والذي نوّر الشهب وازجى للمطر السحب وخلق السموات ستاروں کو روشن کیا اور بارش کے لئے بادلوں کو چلایا اور آسمانوں کو طبقہ بعد طبقہ بنایا اور ان کو روشنی طباقًا وطبقها إشراقًا ۔ ان الظلمت كثرت في هذا الزمان۔ وحلَّت سے بھر دیا کہ یہ بات در حقیقت سچ ہے کہ اس زمانہ میں تاریکی بہت زیادہ ہو گئی ہے ۔ اور مردوں اور في جذر قلوب الرجال والنسوان و مالت الطبائع الى الضيم عورتوں کے دلوں کے اندر بیٹھ گئی ہے اور طبیعتیں ظلم اور جھوٹ کی طرف میل کر گئیں اور بدکاری اور والزور واختارت سُبل الفسق والفجور۔ وترك الناس طرق دروغ اور بے اعتدالی کے طریقوں کو اختیار کر لیا ہے اور لوگوں نے دیانت اور امانت کے طریق کو الديانة والامانة ورضوا بانواع الفرية والخيانة و قلبوا امور چھوڑ دیا ہے اور جھوٹ اور خیانت پر راضی ہو گئے ہیں ۔ اور دین کے احکام کو بدل ڈالا ہے ۔ حق اور الدين۔ يتخذون الجد عبثًا۔ و يحسبون التبر خبثا ۔ و لا يمشون آلا حکمت کی باتوں کو عبث سمجھتے ہیں اور سونے کو ایک میل قرار دے رہے ہیں اور جب چلتے ہیں تو ٹیڑھے زائغين۔ سُلب منهم الفهم الذى يصقل الخواطر ويدرى الجهام چلتے ہیں ان کا وہ فہم ہی جاتا رہا جو دلوں کو صاف کرتا اور بر سنے والے اور نہ برسنے والے بادل کے والماطر فبرزوا كالانعام راتعين لا يعرفون الزمان۔ والوقت الذي نشان معلوم کر لیتا ہے ۔ سو وہ چارپایوں کی طرح صرف چرنے والے ہی ثابت ہوئے زمانہ کو نہیں قد حان۔ و لا يسلكون مسلك الحق والحقيقة۔ ولا يستقرون پہچانتے اور نہ اس وقت کو کہ آ گیا۔ وہ حق اور حقیقت کی راہوں پر نہیں چلتے اور اس راہ کی کنجی کو نہیں