نورالقرآن نمبر 1 — Page 152
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۵۲ منن الرحمن ما يشاء وكل يوم هو في شان۔ يُسبّح له كل ناطق وصامت ۔ کرتا ہے اور ہر یک دن وہ ایک کام میں ہے۔ ہر یک بولنے والا اور نہ بولنے والا اس کی تسبیح میں مشغول ہے۔ بقیه حاشیه : کام لیا ہے جو عقل سلیم فی الفور گواہی دیتی ہے کہ یہ اکمل اور اتم سلسلہ مفردات کا اسی لئے عربی میں مقرر کیا گیا تھا کہ تا قرآن کا خادم ہو یہی وجہ ہے کہ یہ سلسلہ مفردات کا قرآن کریم کے تعلیمی نظام سے جو اکمل اور اتم ہے بالکل مطابق آ گیا لیکن دوسری زبانوں کے مفردات کا سلسلہ ان کتابوں کے تعلیمی نظام سے ہرگز مطابق نہیں آتا جو الہی کتا بیں کہلاتی ہیں اور جن کا ان زبانوں میں نازل ہونا بیان کیا گیا اور نہ دوائر عشرہ مذکورہ ان کتابوں میں پائے جاتے ہیں ۔ پس ان کتابوں کے ناقص ہونے کی وجوہ سے یہ بھی ایک بھاری وجہ ہے کہ وہ دوائر ضرور یہ سے بے بہرہ اور نیز زبان کے مفردات ان کتابوں کی تعلیم سے وفا نہیں کر سکے اور اس میں بھید یہی ہے کہ وہ کتابیں حقیقی کتا بیں نہیں تھیں بلکہ وہ صرف چند روزہ کارروائی تھی حقیقی کتاب دنیا میں ایک ہی آئی جو ہمیشہ کے لئے انسانوں کی بھلائی کے لئے تھی لہذا وہ دوائر عشرہ کاملہ کے ساتھ نازل ہوئی اور اس کے مفردات کا نظام تعلیمی نظام کا بالکل ہموزن اور ہم پلہ تھا اور ہر ایک دائرہ اس کا دوائر عشرہ میں سے اپنے طبیعی نظام کے اندازہ اور قدر پر مفردات کا نظام ساتھ رکھتا تھا جس میں الہی صفات کے اظہار کے لئے اور اقسام اربعہ مذکورہ کے مدارج بیان کرنے کی غرض سے الگ الگ الفاظ مفردہ مقرر تھے اور ہر یک تعلیم کے دائرہ کے موافق مفردات کا کامل دائرہ موجود تھا۔ اب ہم اسی پر اکتفا کر کے ایک اور لفظ کی چند خوبیاں بیان کرتے ہیں۔ سو وہ لفظ رب کا ہے جو قرآنی الفاظ میں سے ہم نے لیا ہے ۔ یہ لفظ قرآن شریف کی پہلی ہی سورۃ اور پہلی ہی آیت میں آتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے الحمد لله رب العالمين لسان العرب اور تاج العروس میں جو العروس میں جو لغت کی نہایت معتبر کتا بیں ہیں لکھا ہے کہ زبان عرب میں ا کہ رب کا لفظ سات معنوں پر مشتمل ہے کا لفظ سات معنوں پر مشتمل ہے اور وہ یہ ہیں ۔ مالک سیّد ۔ مد بر ۔ ۔ مدبر ۔ مربى۔ قيم۔ منعم۔ متمم چنانچہ ان سات معنوں میں سے تین معنی خدا تعالیٰ کی ذاتی عظمت پر دلالت کرتے ہیں منجملہ ان کے مالک ہے اور مالک لغت عرب میں اس کو کہتے ہیں جس کا اپنے مملوک پر قبضہ تا مہ ہو اور جس طرح چاہے اپنے تصرف میں لا سکتا ہو اور بلا اشتراک غیر اس پر حق رکھتا ہو اور یہ لفظ حقیقی طور پر یعنی بلحاظ اس کے معنوں کے بجز خدا تعالیٰ کے کسی دوسرے پر اطلاق نہیں پا سکتا کیوں کہ قبضہ تامہ اور تصرف تام اور حقوق تامہ بجز خدا تعالیٰ کے اور کسی