نورالقرآن نمبر 1

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 117 of 581

نورالقرآن نمبر 1 — Page 117

روحانی خزائن جلد ۹ ۱۱۷ انوار الاسلام اور وقتوں اور میعادوں کا ٹلنا تو ایک ایسی سنت اللہ ہے جس سے بجز ایک سخت جاہل کے اور کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔ دیکھو حضرت موسیٰ کو نزول تو ریت کے لئے تمیں رات کا وعدہ دیا تھا اور کوئی ساتھ شرط نہ تھی مگر وہ وعدہ قائم نہ رہا اور اس پر دس دن اور بڑھائے گئے جس سے بنی اسرائیل گوسالہ پرستی کے فتنہ میں پڑے پس جبکہ اس نص قطعی سے ثابت ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے وعدہ کی تاریخ کو بھی ٹال دیتا ہے جس کے ساتھ کسی شرط کی تصریح نہیں کی گئی تھی تو وعید کی تاریخ میں عند الرجوع تاخیر ڈالنا خود کرم میں داخل ہے اور ہم لکھ چکے ہیں کہ اگر تاریخ عذاب کسی کے توبہ استغفار سے مل جائے تو اس کا نام تخلف وعدہ نہیں کیونکہ بڑا وعدہ سنت اللہ ہے جبکہ سنت اللہ پوری ہوئی تو وہ ايفاء وعدہ ہوا نہ تخلف وعده قوله عذاب موت اگر ا گر استغفار سے مل جاتا ۔ سے ٹل جاتا ہے تو اس کی ☆ بقیه حاشیه : کا ہرگز یہ منشا نہیں ہو گا کہ آنحضرت صلعم وعدہ کو فی الحقیقت وعدہ سمجھ کر پھر جو از عدم ایفائے وعدہ کے قائل تھے کیونکہ تخلف وعدہ ایک نقص ہے جو خدا تعالیٰ پر جائز نہیں بلکہ آنحضرت صلعم یہ سمجھتے ہوں گے کہ خروج دجال اور ظہور مہدی وغیرہ یہ سب مواعید تو برحق ہیں لیکن ممکن ہے کہ ان کے ظہور کے لئے شرائط ہوں جن کے عدم سے یہ بھی حیز عدم میں رہیں اور یا ممکن ہے کہ ایسے طور سے یہ وعدے ظہور میں آجائیں کہ ان پر اطلاع بھی نہ ہو کیونکہ سنت اللہ میں پیشگوئیوں کے ظہور کے لئے کوئی ایک طور اور طریق مقرر نہیں ہے کبھی اپنے ظاہری معنوں پر پوری ہوتی ہیں اور کبھی تاویلی طور پر ۔ ہاں آنحضرت صلعم کے اس طریق اتقاء سے یہ ثابت ہو گیا کہ اس زمانہ کے علماء کس قدر اس تقوی کے طریق سے دور جا پڑے ہیں ۔ منہ حاشیه: اگر بیچارے شیخ بٹالوی کے دل کو دھڑ کا پکڑتا ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَلے اور تاریخ مقررہ کی کمی بیشی کرنا تخلف وعدہ کی ایک جز ہے تو اسے یا د رکھنا چاہیے کہ وعدہ سے مراد وہ امر ہے جو علم الہی میں بطور وعدہ قرار پا چکا ہے نہ وہ امر جو انسان اپنے خیال کے مطابق اس کو ال عمران : ۱۰