نشانِ آسمانی — Page 20
روحانی خزائن جلد ۴ ۲۰ مباحثہ لدھیانہ ۱۸ کہ انصاف یہی ہے کہ بجز اجماع زمانہ صحابہ جب کہ مومنین اہل اجماع بہت تھوڑے تھے اور ان سب کی معرفت تفصیلی ممکن تھی اور زمانہ کے اجماعوں کے حصول علم کی کوئی سبیل نہیں ۔“ اسی کے مطابق کتاب حصول المامول میں ہے جو کتاب ارشاد الفحول شوکانی سے ملخص ہے اس میں کہا۔ ” جو یہ دعویٰ <mark><mark>کر</mark>ے</mark> کہ ناقل اجماع ان سب علماء دنیا کی جو اجماع میں معتبر ہیں معرفت پر قادر ہے وہ اس دعوی میں حد سے نکل گیا اور جو کچھ اس نے کہا انکل سے کہا۔ <mark>خدا</mark> امام احمد حنبل پر رحم <mark><mark>کر</mark>ے</mark> کہ انہوں نے صاف فرمادیا ہے کہ جو دعویٰ اجماع کا مدعی ہے وہ جھوٹا ہے۔ فقط ۔ اب میں آپ سے دریافت <mark>کر</mark>نا چاہتا ہوں کہ بخاری اور مسلم کی احادیث کی نسبت جو اجماع کا دعوی کیا جاتا ہے یہ دعوی کیون<mark>کر</mark> راستی کے رنگ سے رنگیں سمجھ سکیں؟ حالانکہ آپ اس بات کے قائل ہیں کہ صحابہ کے بعد کوئی اجماع حجت نہیں ہو سکتا ۔ بلکہ آپ امام احمد صاحب کا قول پیش <mark>کر</mark>تے ہیں کہ جو وجو د اجماع کا مدعی ہے وہ جھوٹا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ بخاری اور مسلم کی صحت پر بھی ہرگز اجماع نہیں ہوا۔ چنانچہ واقعی امر بھی ایسا ہی ہے کہ بہت سے فرقے مسلمانوں کے بخاری اور مسلم کی اکثر حدیثوں کو صحیح نہیں سمجھتے۔ پھر جب کہ ان حدیثوں کا یہ حال ہے تو کیون<mark>کر</mark> کہہ سکتے ہیں کہ بغیر کسی شرط کے وہ تمام حدیثیں واجب العمل اور قطعی الصحت ہیں ؟ ایسا خیال <mark>کر</mark>نے میں دلیل شرعی کونسی ہے؟ کیا کوئی <mark>قرآن</mark> <mark>کر</mark>یم میں ایسی آیت پائی جاتی ہے کہ تم نے بخاری اور مسلم کو قطعی الثبوت سمجھنا ؟ اور اس کی کسی حدیث کی نسبت اعتراض نہ <mark>کر</mark>نا ؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کی کوئی وصیت تحریری موجود ہے جس میں ان کتابوں کو بلا لحاظ کسی شرط اور بغیر توسط محک کلام <mark>الہی</mark> کے واجب العمل ٹھہرایا گیا ہو ؟ جب ہم اس امر میں غور <mark>کر</mark>یں کہ کیوں ان کتابوں کو واجب العمل خیال کیا جاتا ہے تو ہمیں یہ وجوب ایسا ہی معلوم ہوتا ہے جیسے حنفیوں کے نزدیک اس بات کا وجوب ہے کہ امام اعظم صاحب کے یعنی حنفی مذہب کے تمام مجتہدات واجب العمل ہیں ! لیکن ایک دانا سوچ سکتا ہے کہ یہ وجوب شرعی نہیں بلکہ کچھ زمانہ سے ایسے خیالات کے اثر سے اپنی طرف سے یہ وجوب گھڑا گیا ہے جس حالت میں حنفی مذہب پر آپ لوگ یہی اعتراض <mark>کر</mark>تے ہیں کہ وہ نصوص بینہ شرعیہ کو چھوڑ <mark>کر</mark> بے اصل اجتہادات کو محکم پکڑتے اور ناحق تقلید شخصی کی راہ اختیار <mark>کر</mark>تے ہیں تو کیا یہی اعتراض آپ پر نہیں ہو سکتا کہ آپ بھی کیوں بے وجہ تقلید پر زور مار رہے ہیں؟ حقیقی بصیرت اور معرفت کے کیوں طالب نہیں ہوتے ؟ ہمیشہ آپ لوگ بیان <mark>کر</mark>تے تھے کہ جو حدیث صحیح ثابت ہے اس پر عمل <mark>کر</mark>نا