نشانِ آسمانی — Page 482
روحانی خزائن جلد ۴ ۴۸۲ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات تحقیق سے قلم بند کی گئی ہیں ، معلوم ہوتی ہے اور اجمالی طور پر مگر کافی اور اطمینان بخش اور نہایت مؤثر بیان قرآن شریف میں موجود ہے۔ پھر دیگر اہل مذاہب کی طرح مسلمانوں کے ہاتھ میں صرف قصہ ہی نہیں بلکہ وہ تو ہر صدی میں غیر قوموں کو کہتے رہے ہیں اور اب بھی کہتے ہیں کہ یہ سب برکات اسلام میں ہمیشہ کے لئے موجود ہیں۔ بھائیو! آؤ اول آزماؤ پھر قبول کرو مگر ان آوازوں کو کوئی نہیں سنتا۔ حجت الہی ان پر پوری ہے کہ ہم بلاتے ہیں وہ نہیں آتے اور ہم دکھاتے ہیں وہ نہیں دیکھتے۔ انہوں نے آنکھوں اور کانوں کو بکلی ہم سے کچھ ہم سے پھیر لیا تا نہ ہو کہ وہ سنیں اور دیکھیں اور ہدایت پاویں۔ دوسری غلط نہی جو معترض نے پیش کی ہے یعنی یہ کہ اصحاب کہف کی تعداد کی بابت قرآن شریف میں غلط بیان ہے یہ نرا دعویٰ ہے۔ معترض نے اس بارے میں کچھ نہیں لکھا کہ وہ بیان کیوں غلط ہے اور اس کے مقابل پر صحیح کونسا بیان ہے اور اس کی صحت پر کون سے دلائل ہیں تا اس کے دلائل پر غور کی جائے اور جواب شافی دیا جائے ۔ اگر معترض کو فرقانی بیان پر کچھ کلام تھا تو اس کی وجوہات پیش کرنی چاہئیں تھیں ۔ بغیر پیش کرنے وجوہات کے یونہی غلط ٹھہرانا متلاشی حق کا کام نہیں ہے۔ تیسری غلط فہمی معترض کے دل میں یہ پیدا ہوئی ہے کہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ ایک بادشاہ ( جس کی سیر و سیاحت کا ذکر قرآن شریف میں ہے ) سیر کرتا کرتا کسی ایسے مقام تک پہنچا جہاں اُسے سورج دلدل میں چھپتا نظر آیا۔ اب عیسائی صاحب مجاز سے حقیقت کی طرف رخ کر کے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ سورج اتنا بڑا ہو کر ایک چھوٹے سے دلدل میں کیونکر چھپ گیا۔ یہ ایسی بات ہے جیسے کوئی کہے کہ انجیل میں مسیح کو خدا کا بڑہ لکھا ہے یہ کیونکر ہو سکتا ہے۔ بڑہ تو وہ ہوتا ہے جس کے سر پر سینگ اور بدن پر پشم و غیرہ بھی ہو