نشانِ آسمانی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 465 of 598

نشانِ آسمانی — Page 465

روحانی خزائن جلد ۴ ۴۶۵ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ضرور دی ہیں۔ بہر حال جو شخص اول اس آیت کے سیاق و سباق کی آیتوں کو دیکھے کہ کیسی وہ دونوں طرف سے عذاب کے نشانوں کا قصہ بتلا رہی ہیں اور پھر ایک دوسری نظر اُٹھاوے اور خیال کرے کہ کیا یہ معنی صحیح اور قرین قیاس ہیں کہ خدائے تعالیٰ کے تمام نشانوں اور عجائب کاموں کی جو اس کی بے انتہا قدرت سے وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والے اور غیر محدود ا منصفانہ ہیں پہلے لوگ اپنے محدود زمانہ میں تکذیب کر چکے ہوں ۔ اور پھر ایک تیسری نظر منہ سے کام لے کر سوچے کہ کیا اس جگہ تخویف کے نشانوں کا ایک خاص بیان ہے یا تبشیر اور رحمت کے نشانوں کا بھی کچھ ذکر ہے اور پھر ذرا چوتھی نگاہ الایات کے دل پر بھی ڈال دیوے کہ وہ کن معنوں کا افادہ کر رہا ہے تو اس چار طور کی نظر کے بعد بجز اس کے کہ کوئی تعصب کے باعث حق پسندی سے بہت دور جا پڑا ہو ہر ایک شخص اپنے اندر سے نہ ایک شہادت بلکہ ہزاروں شہادتیں پائے گا کہ اس جگہ نفی کا حرف صرف نشانوں کی ایک قسم خاص کی نفی کیلئے آیا ہے جس کا دوسری اقسام پر کچھ اثر نہیں بلکہ اس سے ان کا متحقق الوجود ہونا ثابت ہو رہا ہے اور ان آیات میں نہایت صفائی سے اللہ جل شانہ بتلا رہا ہے کہ اس وقت تخویفی نشان جن کی یہ لوگ درخواست کرتے ہیں صرف اس وجہ سے نہیں بھیجے گئے کہ پہلی امتیں ان کی تکذیب کر چکی ہیں ۔ سو جونشان پہلے رڈ کئے گئے اب بار بار انہیں کو نازل کرنا کمزوری کی نشانی ہے اور غیر محدود قدرتوں والے کی شان سے بعید ۔ پس ان آیات میں یہ صاف اشارہ ہے کہ عذاب کے نشان ضرور نازل ہوں گے مگر اور رنگوں میں ۔ یہ کیا ضرورت ہے کہ وہی نشان حضرت موسیٰ کے یا وہی نشان حضرت نوح اور قوم لوط اور عاد اور ثمود کے ظاہر کئے جائیں ۔ چنانچہ ان آیات کی تفصیل دوسری آیات میں زیادہ تر کی گئی ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔