نشانِ آسمانی — Page 449
روحانی خزائن جلد ۴ ۴۴۹ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ہے۔ (۱۱) آج کے دن میں جو حکم تجھے کرتا ہوں تو اُسے یاد رکھیو۔ (۱۲) ہوشیار رہ تا نہ ہو دے کہ اُس زمین کے باشندوں کے ساتھ جس میں تو جاتا ہے کچھ عہد باندھے۔ (۱۷) تو اپنے لئے ڈھالے ہوئے معبودوں کومت بنائیو۔ اب ان آیات کا سیاق سباق دیکھنے سے صاف ظاہر ہے کہ اگر چہ ان آیات میں حضرت موسی مخاطب کئے گئے تھے مگر دراصل حضرت موسی کو ان احکام کا نشانہ نہیں بنایا گیا ۔ حضرت موسی نہ کنعان میں گئے اور نہ بت پرستی جیسا برا کام حضرت موسی جیسے مرد خدا بت شکن سے ہو سکتا تھا جس سے ان کو منع کیا جاتا کیونکہ موسی وہ مقرب اللہ ہے جس کی شان میں اسی باب میں خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تو میری نظر میں منظور ہے اور میں تجھ کو بنام پہچانتا ہوں ۔ دیکھو خروج ( باب۳۳) آیت (۱۷)۔ سو یا د رکھنا چاہیے کہ یہی طرز قرآن شریف کی ہے توریت اور قرآن شریف میں ﴿۵﴾ اکثر احکام اسی شکل سے واقعہ ہیں کہ گویا مخاطب اُن کے حضرت موسی اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مگر دراصل وہ خطاب قوم اور اُمت کے لوگوں کی طرف ہوتا ہے لیکن جس کو ان کتابوں کی طرز تحریر معلوم نہیں ۔ وہ اپنی بے خبری سے یہی خیال کر لیتا ہے کہ گویا وہ خطاب و عتاب نبی منزل علیہ کو ہو رہا ہے مگر غور اور قرائن پر نظر ڈالنے سے اُس پر کھل جاتا ہے کہ یہ سراسر غلطی ہے۔ پھر یہ اعتراض ان آیات پر نظر ڈالنے سے بھی بکلی مستاصل ہوتا ہے جن میں اللہ جل شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یقین کامل کی تعریف کی ہے جیسا کہ وہ ایک جگہ فرماتا ہے۔ قُلْ إِنِّي عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَّبِّی کے نمبرے یعنی کہہ کہ مجھے اپنی رسالت پر کھلی کھلی دلیل اپنے رب کی طرف سے ملی ہے اور پھر دوسری جگہ فرماتا ہے قُلْ هَذِهِ سَبِيلِي الانعام: ۵۸