نشانِ آسمانی — Page 429
روحانی خزائن جلد ۴ ۴۲۹ نشان آسمانی اشعار یہ ہیں موجب کفرست تکفیر تو ای کان کرم و این مواہیر و فتاوے رہزن راه ارم آرزو دارم که جان و مال قربانت کنم این تمنایم بر آرد کارساز قادرم چون بتابم رو ز تو حاشا و کلا این کجا من فداے روے تو ای رهبر دین پرورم دین مرده را بقالب جان درآمد از دمت چون ازین انفاس اعراضی کنم ایم مهترم من کجا و این طور بد عہدی و بیراهی کجا خادمم تا زنده هستم و از دل و جان چاکرم حمله با کردند این غولان راه حق به من ره از دندی گر نبودے لطف یزدان رهبرم ایں یہودی سیرتان قدر ترا نشناختند چوں نبی ناصری نفرین شنیدی لا جرم ہر کہ تکفیرت کند کافر همان ساعت شود حق نگهدارد مرا زین زمره نا محترم بر من اعمی به بخش ای حضرت مهر منیر گر خطا دیدی ازاں بگذر که من مستغفرم تار وانم هست در تن از دل و جانم غلام لطف فرما کز تذلل بر در تو حاضرم نور ماه دین احمد بر وجودت شد تمام آمدی در چار دہ اے بدر تام و انورم حسب تبشیر نبی بر وقت خود کردی ظہور السلام ای رحمت ذات جلیل و اکبرم مشکلات دین حق بر دست تو آسان شدند مے کنی تجدید دین از فضل رب ذوالکرم از رو منت درونم را مسلمان کرده گر نباشم جان نثار آستانت کا فرم راقم خاکسار مولوی حافظ عظیم بخش پٹیالوی - ۲۴ مئی ۱۸۹۲ء اگر کوئی جگہ حضور کے رسالہ میں خالی ہو دے تو یہ اشتہار مندرجہ ذیل میرے مکرم و شفیق استاد کا بھی طبع فرما کر ممنون فرماویں اشتہار جو فتوی بحق امامنا، مخدومنا مسیحنا وسیح الدنیا میرزا غلام احمد صاحب قادیانی - محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں شائع کیا ہے اس کے علماء پٹیالہ کی فہرست میں میرے بعض احباب نے میرے ہم نام مولوی عبداللہ پٹیالوی کے نام کو میرا نام خیال کیا ہے اور بعض نے دریافت کے لئے میرے نام عنایت نامہ جات بھی ارسال فرمائے ہیں۔ ۴۲ ایڈیٹر اشاعۃ السنہ نے ناظرین کو اور بھی شبہ میں ڈالا کہ اس نام پر یہ نوٹ ایزاد کیا کہ یہ مولوی صاحب بھی میرزا صاحب کے پہلے معتقد تھے ۔ لہذا میں جمیع احباب کو اطلاع دیتا ہوں کہ مولوی عبداللہ پٹیالوی اور شخص ہیں اور وہ بھی پہلے بھی مرزا صاحب کے معتقد نہ تھے اور نہ ہیں ۔ باقی رہا نیازمند سو میں اسی طرح اس فدائے قوم و کشتہ اسلام کا معتقد و نیازمند ہوں ۔ المشتهر خاکسار محمد عبداللہ خاں ۔ دوم مدرس عربی مہندر کالج پٹیالہ ۱۴۰ ذیقعدہ ۱۳۰۹ھ