نشانِ آسمانی — Page 383
روحانی خزائن جلد ۴ ۳۸۳ نشان آسمانی تا چهل سال اے برادر من دور آں شہوار مے بینم عاصیان از امام معصومم خجل و شرمسار می بینم غازی دوستدار دشمن کش ہمدم و یار غار می بینم زینت شرع و رونق اسلام محکم و استوار می بینم گنج کسری و نقد اسکندر ہمہ بر روئے کارے بینم بعد ازان خود امام خواهد بود بس جہان را مدار می بینم اح م و دال می خوانم نام آن نامدار می بینم دین و دنیا از و شود معمور خلق و بختیار می بینم مهدی وقت و عیسی دوراں هر دو را شہسوار می بینم ایں جہاں را چو مصر می نگرم عدل او را حصار می بینم هفت باشد و زیر سلطانم بر کف دست ساقی وحدت شیخ آہن دلال زنگ زده گرگ با میش شیر با آہو ہمہ را کامگار می بینم می بینم باده خوشگوار کند و بے اعتبار می بینم در چرا با قرار می بینم * ترک عیار سست می نگرم خصم او در خمار می بینم نعمت الله نشست ہمہ بر کنار از بر کنجے می بینم د اس جگہ منشی محمد جعفر صاحب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ شعر یعنی ترک عیا ر گویا اس عاجز کی تکذیب کی نسبت پیشگوئی ہے لیکن ایک عقل مند جو انصاف اور تدبر سے کچھ حصہ رکھتا ہو وہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ شعر اس قصیدہ کے مضامین کا ایک آخری مضمون ہے اور قصیدہ کی ترتیب سے ببداہت معلوم ہوتا ہے کہ اوّل مسیح موعود کا ظہور ہو اور پھر اس کے بعد کوئی ایسا واقعہ