نشانِ آسمانی — Page 363
روحانی خزائن جلد ۴ انسانی طاقت سے بالاتر ہو۔ ۳۶۳ آسمانی فیصلہ اب ناظرین پر واضح ہو کہ پہلے ڈاکٹر صاحب موصوف نے اپنے ایک خط میں نشانوں کو تخصیص کے ساتھ طلب کیا تھا جیسے مردہ زندہ کرنا وغیرہ اس پر ان کی خدمت میں خط لکھا گیا کہ تخصیص نا جائز ہے خدائے تعالیٰ اپنے ارادہ اور اپنے مصار مصالح کے موافق نشان ظاہر کرتا ہے اور جب کہ نشان کہتے ہی اس کو ہیں کہ جو انسانی طاقتوں سے بالاتر ہو تو پھر تخصیص کی کیا حاجت ہے۔ کسی نشان کے آزمانے کیلئے یہی طریق کافی ہے کہ انسانی طاقتیں اسکی نظیر پیدا نہ کرسکیں اس خط کا جواب ڈاکٹر صاحب نے کوئی نہیں دیا تھا اب پھر ڈاکٹر صاحب نے نشان دیکھنے کی خواہش ظاہر کی اور مہربانی فرما کر اپنی اس پہلی قید کو اٹھا لیا ہے اور صرف نشان چاہتے ہیں کوئی نشان ہو مگر انسانی طاقتوں سے بالاتر ہو لہذا آج ہی کی تاریخ یعنی اارجنوری ۱۸۹۲ء کو بروز دوشنبہ ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں مکر را دعوت حق کے طور پر ایک خط رجسٹری شدہ بھیجا گیا ہے جس کا یہ مضمون ہے کہ اگر آپ بلا تخصیص پ بلا تخصیص کسی نشان دیکھنے پر سچے دل سے مسلمان ہونے کیلئے تیار ہیں تو اخبارات مندرجہ حاشیہ میں حلفاً یہ اقرار اپنی طرف سے شائع کر دیں کہ میں جو فلاں ابن فلاں ساکن بلدہ فلاں ریاست جموں میں بر عہدہ ڈاکٹری متعین ہوں اس وقت حلفاً اقرار صحیح سراسر نیک نیتی اور حق طلبی اور خلوص دل سے کرتا ہوں کا اسے کرتا ہوں کہ اگر میں اسلام کی تائید میں کوئی نشان دیکھوں جس کی نظیر مشاہدہ کرانے سے میں عاجز آ جاؤں اور انسانی طاقتوں میں اس کا کوئی نمونہ انہیں تمام لوازم کے ساتھ دکھلا نہ سکوں تو بلا توقف مسلمان ہو جاؤں گا اس اشاعت اور اس اقرار کی اس لئے ضرورت ہے کہ خدائے قیوم وقد وس بازی اور کھیل کی طرح کوئی نشان دکھلا نا نہیں چاہتا جب تک کوئی انسان پوری انکسار اور ہدایت یابی کی غرض سے اس کی طرف رجوع نہ کرے پنجاب گزٹ سیالکوٹ اور رسالہ انجمن حمایت اسلام لاہور اور ناظم الہند لاہور اور اخبار عام لا ہور اور نورافشاں لدھیانہ۔