نشانِ آسمانی — Page xxxviii
آیت ب<mark>طور</mark> دلیل بی<mark>ان</mark> کی اور اُس کے پیش کردہ معنوں پر میں نے کئی اعتراضات کئے اور اُس کے اس دعویٰ کہ لیؤ<mark>من</mark>نّ میں لام اور نون تاکید کا ہے۔اس لئے اِس کے معنے استقبال کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتے۔جواب میں َ میں نے قرآن مجید کی <mark>من</mark>درجہ ذیل آیات پیش کی جس میں دو جگہ نون تاکید کا ہے اور معنے حال کے ہیں۔(النساء : ۷۳،۷۴ ) اِس کے معنے مول<mark>ان</mark>ا شاہ رفیع الدین صاحب محدّث دہلوی نے یہ کئے ہیں:۔’’اور تحقیق بعضے تم میں سے البتہ وہ شخص ہیں کہ دیر کرتے ہیں ن<mark>کل</mark>نے میں۔پس اگر پہنچ جاتی ہے تم کو مصیبت۔کہتا ہے تحقیق احس<mark>ان</mark> کیا اﷲ نے اوپر میرے جس وقت کہ نہ ہوا میں ساتھ اُن کے حاضر۔اور اگر پہنچ جاتا ہے تم کو فضل خدا کی طرف سے البتہ کہتا ہے کہ گویا نہ تھا درمی<mark>ان</mark> تمہارے اور درمی<mark>ان</mark> اس کے دوستی۔‘‘ (مباحثہ سارچور صفحہ ۳۳،۳۴ باردوم باہتمام محمدیامین تاجرکتب قادی<mark>ان</mark> دارالام<mark>ان</mark>) پس اِس آیت میں لَیُبَطِّءَنَّ کا ترجمہ ’’دیر کرتے ہیں‘‘اور لَیَقُوْلَنَّ کا ترجمہ ’’البتہ کہتا ہے‘‘ حال کا کیا ہے۔اِسی طرح میں نے اس مباحثہ میں یہ <mark>حدیث</mark> بھی درج کی ہے کہ جب حضرت امیر المو<mark>من</mark>ین عمر رضی اﷲ عنہ وفات پ<mark>ان</mark>ے لگے تو آپ نے اپنے بیٹے عبداﷲؓ کو حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کے پاس بھیجا کہ وہ اُن کے لئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کے ساتھ دفن کئے ج<mark>ان</mark>ے کی اجازت کے لئے درخواست کریں۔تو حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا کہ میں اِس جگہ کو اپنے لئے چاہتی تھی۔’’وَلأوْثِرَنَّہٗ الْیَوْمَ عَلٰی نَفْسِیْ‘‘ لیکن آج میں حضرت عمرؓ کو اپنے نفس پر مقدم کرتی ہوں۔اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمرؓ کے وفات پ<mark>ان</mark>ے کے بعد اجازت حاصل کی گئی۔پس اس روایت میں بھی ’’لاوثرنہ‘‘ کے <mark>باوجود</mark> مؤکد بہ نون ثقیلہ <mark>ہونے</mark> کے حال کے معنے ہیں۔‘‘