نشانِ آسمانی — Page xxxiii
’’(۱) ا<mark>من</mark> قائم رکھنے کے لئے وہ خود سرکاری <mark>ان</mark>تظام کراویں۔یعنی ایک افسر <mark>ان</mark>گریز مجلس بحث میں موجود ہو۔(۲) دوسرے یہ کہ فریقین کی بحث تحریری ہو اور سوال و جواب مجلسِ بحث میں لکھے جائیں۔(۳) تیسری شرط یہ ہے کہ بحث وفات و حیاتِ مسیحؑ میں ہو اور کوئی شخص قرآن کریم اور کتب <mark>حدیث</mark> سے باہر نہ جائے۔‘‘(ملخصًا) نیز تحریر فرمایا کہ’’ میں حلفاً اقرار کرتا ہوں کہ اگر میں اِس بحث میں غلطی پر ن<mark>کل</mark>ا تو دوسرا دعویٰ خود چھوڑ دوں گا۔۔۔۔۔۔اس اشتہار کے شائع <mark>ہونے</mark> کے بعد ایک ہفتہ تک حضرات موصوفہ کے جواب باصواب کا <mark>ان</mark>تظار کروں گا۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ ۲۱۷،۲۱۸ ) اِس اشتہار کے شائع <mark>ہونے</mark> کے بعد مولوی ابو محمد عبدالحق صاحب تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات کر کے معذرت کر گئے کہ میں تو ایک گوشہ گزیں آدمی ہوں اور ایسے جلسوں سے جن میں عوام کے نفاق و شقاق کا <mark>ان</mark>دیشہ ہو طبعاً کارہ ہوں۔چونکہ مولوی محمد حسین بٹالوی بھی دہلی پہنچ کر فخریہ <mark>ان</mark>داز میں اپنی علمیت اور فضیلت کا اعل<mark>ان</mark> کر رہا تھا اور ایک اشتہار میں اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق لکھا کہ :۔’’یہ میرا شکار ہے کہ بدقسمتی سے پھر دہلی میں میرے قبضہ میں آ گیا اور میں خوش قسمت ہوں کہ بھاگا ہوا شکار پھر مجھے مل گیا۔‘‘ اور لوگوں کو آپ کے خلاف بھڑکاتا رہا۔اس لئے حضور علیہ السلام نے۶؍ اکتوبر کو ’’اشتہار بمقابل مولوی سید نذیر حسین صاحب سرگروہ اہل<mark>حدیث</mark>‘‘ شائع کیا اُس میں آپ نے مولوی عبدالحق صاحب کو چھوڑتے ہوئے مولوی سید نذیر حسین صاحب او ر اُن کے شاگرد بٹالوی صاحب کا ذکر کر کے تحریر فرمایا:۔’’کہ اگر ہردو مولوی صاحب موصوف حضرت مسیح ابن مریم کو زندہ سمجھنے میں حق پرہیں اور قرآن کریم اور احادیث <mark><mark><mark>صحیح</mark></mark></mark>ہ سے اس کی زندگی ثابت کر سکتے ہیں تو میرے ساتھ بپابندی شرائط <mark>من</mark>درجہ اشتہار ۲؍ اکتوبر ۱۸۹۱ء بالاتفاق بحث کرلیں۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ۲۲۰ جدید ایڈیشن) اور اتمامِ حجّت کی غرض سے بطریق تنزل حضورؑ نے یہ بھی لکھ دیا کہ مولوی سید نذیر حسین صاحب <mark>کسی</mark> <mark>ان</mark>گریز افسر کے جلسۂ بحث میں مامور کر<mark>ان</mark>ے سے ناکام رہیں تو اُس صورت میں بذریعہ اشتہار حلفاً اقرار کریں کہ ہم خود