نشانِ آسمانی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 183 of 598

نشانِ آسمانی — Page 183

روحانی خزائن جلد ۴ ۱۸۳ الحق مباحثہ دہلی سب ان پر ایمان لے آئیں گے اور ان معنوں پر زور دینے کے وقت آپ نے اپنی اس شرط کا کچھ ۵۳ خیال نہیں رکھا جو پہلے ہم دونوں کے درمیان قرار پا چکی تھی جو قال اللہ اور قال الرسول سے باہر نہیں جائیں گے اور نہ ان بزرگوں کی عزت اور مرتبت کا کچھ پاس کیا جو اہل زبان اور صرف اور نحو کو آپ سے بہتر جاننے والے تھے۔ صرف اور نحو ایک ایسا علم ہے جس کو ہمیشہ اہل زبان کے محاورات اور بول چال کے تابع کرنا چاہئے اور اہل زبان کی مخالفانہ شہادت ایک دم میں نحو وصرف کے بناوٹی قاعدہ کو رد کر دیتی ہے۔ ہمارے پر اللہ اور رسول نے یہ فرض نہیں کیا کہ ہم انسانوں کے خود تراشیدہ قواعد صرف ونحو کو اپنے لئے ایسار ہبر قرار دیدیں کہ باوجود یکہ ہم پر کافی اور کامل طور پر کسی آیت کے معنے کھل جائیں اور اس پر اکابر مومنین اہل زبان کی شہادت بھی مل جائے تو پھر بھی ہم اس قاعدہ صرف یا نحو کو ترک نہ کریں اس بدعت کے الزام کی ہمیں حاجت کیا ہے۔ کیا ہمارے لئے کافی نہیں کہ اللہ اور رسول اور صحابہ کرام ایک صحیح معنے ہم کو بتلاویں۔ نحو اور صرف کے قواعد اطراد بعد الوقوع ہے اور یہ ہمارا مذہب نہیں کہ یہ لوگ اپنے قواعد تراشی میں بکلی غلطی سے معصوم ہیں اور ان کی نظریں ان گہرے محاورات کلام الہی پر پہنچ گئی ہیں جس سے آگے تلاش اور تنبع کا دروازہ بند ہے میں جانتا ہوں کہ آپ بھی ان کو معصوم نہیں سمجھتے ہوں گے۔ آپ جانتے ہیں کہ قرآن کریم میں ان هذينِ لَسْحِران کے بھی آیت موجود ہے۔ لیکن کیا آپ نظیر کے طور پر کوئی قول عرب قدیم کا پیش کر سکتے ہیں جس میں بجائے ان هــذيـــن کے ان هذان لکھا ہو۔ کسی نحوی نے آج تک یہ دعوی بھی نہیں کیا کہ ہم قواعد صرف و نحو کو ایسے کمال تک پہنچا چکے ہیں کہ اب کوئی نیا امر پیش آنا یا ہماری تحقیق میں کسی قسم کا نقص نکلنا غیرممکن ہے۔ غرض التزام قواعد مخترع صرف و نحو کا حجج شرعیہ میں سے نہیں ۔ یہ علم محض از قبیل اطراد بعد الوقوع ہے اور ان لوگوں کی معصومیت پر کوئی دلیل شرعی نہیں مل سکتی ۔ خواص علم لغت ایک دریا نا پیدا کنار ہے۔ افسوس کہ ہماری صرف ونحو کے قواعد مرتب کرنے والوں نے بہت جلد ہمت ہار دی اور جیسا کہ حق تفتیش کا تھا بجا نہیں لائے ۔ اور کبھی انہوں نے ارادہ نہیں کیا اور نہ کر سکے کہ ایک گہری اور عمیق نظر سے قرآنی وسیع المفہوم الفاظ کو پیش نظر رکھ کر قواعد تامہ کاملہ مرتب کریں اور یوں ہی نا تمام اپنے کام کو چھوڑ گئے ہمارے ایمان کا تقاضا یہ ہونا چاہئے کہ ہم کسی طرح قرآن کریم کو ان کا تابع نہ ٹھہر اویں بلکہ جیسے جیسے خواص وسیع المفہوم قرآن کریم کے الفاظ کے کھلنے چاہئیں اسی کے مطابق اپنی پرانی اور نا تمام نحو کو بھی درست کر لیں۔ یہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ ہر یک زبان ہمیشہ گردش میں رہتی ہے اور گردش میں رہے گی۔ جو شخص اب اطه : ۶۴