نشانِ آسمانی — Page 161
روحانی خزائن جلد ۴ ١۶١ الحق مباحثہ دہلی شخص بشرط زندگی ارذل عمر تک پہنچنا یہ ایک فطرتی اور اصلی امر ہے جو انسان کی فطرت کو لگا ہوا ہے جس کے ۳۱ بیان میں قرآن کریم بھرا ہوا ہے۔ سو جو شخص اس اصلی امر کے مخالف کسی کی نسبت دعوی کرتا ہے اثبات دعوئی اس کے ذمہ ہے مثلاً زید جو تین سو برس سے مفقود الخبر ہے اس کی نسبت دو شخصوں کی کسی قاضی کی عدالت میں یہ بحث ہو کہ ایک اس کی نسبت یہ بیان کرتا ہے کہ وہ فوت ہو گیا اور دوسرا یہ بیان کرتا ہے کہ اب تک زندہ ہے۔ اب ظاہر ہے کہ قاضی ثبوت اس سے طلب کرے گا جو خوارق عادت زندگی کا قائل ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو شرعی عدالتوں کا سلسلہ درہم برہم ہو جائے اب ہمارے اس تمام بیان سے ظاہر ہے کہ دراصل ہمارے ذمہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ وفات جو ہر یک انسان کیلئے حد مقررہ فطرت تک ایک طبعی امر ہے اس کا ثبوت دیں بلکہ ہمارے فریق مخالف کے ذمہ یہ بار ثبوت ہے کہ ایک شخص حد مقررہ فطرت اللہ تک فوت نہیں ہوا بلکہ دراصل اب تک زندہ ہے اور صد ہا برس کے مرور زمانہ نے اس پر ذرہ اثر نہیں کیا۔ ظاہر ہے کہ قرآن کریم میں کئی انبیاء وغیرہ کا ذکر کر کے ان کی موت کا کچھ بیان نہیں کیا تو کیا اس سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ وہ ابتک زندہ ہیں بلکہ زندگی کسی کی جب ہی ثابت ہوگی کہ جب زندگی کا ثبوت دیا جائے گاور نہ موت وحیات کے ترک ذکر سے موت ہی سمجھی جائے گی۔ اب جب کہ یہ بات فیصلہ پاچکی ہے کہ ہمارے ذمہ یہ بار ثبوت نہیں کہ مسیح ابن مریم جو اوروں کی طرح انسان تھا وہ کیوں اور انسانوں کی طرح عمر طبعی کے دائرے کے اندراندرفوت ہو گیا بلکہ حضرت مولوی صاحب کے ذمہ یہ بار ثبوت ہے کہ مسیح ابن مریم انسان ہو کر اور تمام انسانوں کے خواص اپنے اندر رکھ کر ابتک بر خلاف نصوص عامه قرآنیه و حدیثیه و بر خلاف قانون فطرت مرنے سے بچا ہوا ہے اور زمانہ نے اس پر اثر کر کے ارذل عمر تک بھی نہیں پہنچایا۔ تو اب دیکھنا چاہئے کہ مولوی صاحب نے اس بارہ میں کیا ثبوت دیا ہے۔ اور کن آیات قطعية الدلالة اور احادیث صحیحہ مله مرفوعہ کے کھلے کھلے منطوق سے اس عظیم الشان دعوی کو بپا یہ ثبوت پہنچایا ہے۔ سو ا ہے۔ سو واضح ہو کہ مولوی صاحب نے سب سے پہلے یہ دلیل پیش کی ہے کہ سورۃ النساء کی یہ آیت کہ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتُبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا حضرت مسیح ابن مریم کی حیات جسمانی پر شاہد ناطق ہے اور چونکہ حضرت مولوی صاحب موصوف کے دل میں یہ دھڑکا تھا کہ یہ آیت تو زوالوجوہ ہے اور تمام مفسر کئی کئی معنی اسکے کر گئے ہیں اور کسی مبسوط تفسیر میں اس کو ایک ہی معنے میں محدود نہیں رکھا گیا لہذا حضرت مولوی صاحب نے اس کو قطعية الدلالة بنانے کیلئے متصلہ النساء : ١٦٠