نشانِ آسمانی — Page 135
روحانی خزائن جلد ۴ الله الحق مباحثہ دہلی اب ہم ان تکفیر بازوں کو حضرت امام ابن قیم کے چند شعر سنا دیتے ہیں شاید ان میں کوئی خدا ترس ﴿۵﴾ بات کی تہ کو پہنچ کر اللہ تعالیٰ سے ڈر جائے۔ (1) وَمِنَ الْعَجَائِبِ أَنَّكُمْ كَفَرْتُمُ أَهْلَ الحَدِيثِ وَ شِيعَةَ الْقُرْآنِ (۲) الْكُفْرُ حَقُّ اللَّهِ ثُمَّ رَسُولِهِ بِالنَّصِ يَثْبِتُ لَا بِقَوْلِ فُلَانَ (۳) مَنْ كَانَ رَبُّ الْعَالَمِينَ وَعَبْدُهُ قَدْ كَفَّرَاهُ فَذَاكَ ذُو الْكُفْرَانَ (۴) فَهَلُمَّ وَيَحْكُمُ نُحَاكِمُكُمْ إِلَى الهُـ نَصَّينِ مِنْ وَحْيِ وَمِنْ قُرْآنِ (۵) وَهُنَاكَ يُعْلَمُ أَيُّ حِزْبَيْنِ عَلَى الـ كُفْرَانَ حَقًّا أَوْ عَلَى الْإِيْمَانِ (۶) فَلْيَهُنِكُمْ تَكْفِيرُ مَنْ حَكَمَتْ بِاِس سلام وَ إِيْمَانِ لَهُ النَّصَّان (2) إِنْ كَانَ ذَاكَ مُكَفِّرًا يَا أُمَّةَ الـ عُدْوَانِ مَنْ هَذَا عَلَى الْإِيْمَانَ (۸) كَفَرْتُمُ وَاللَّهِ مَنْ شَهِدَ الرَّسُو لُ بِأَنَّهُ حَقًّا عَلَى الْإِيْمَانَ (۹) كَمْ ذَا التَّلَاعُبُ مِنْكُمُ بِالدِّينِ وَالـ إِيْمَانِ مِثْلَ تَلَاعُبِ الصِّبْيَانِ (۱۰) خُسِفَتْ قُلُوبُكُمْ كَمَا خُسِفَتْ عُقُو لُكُمْ فَلَا تَزْكُوا عَلَى الْقُرْآنِ (11) يَا قَوْمُ فَانْتَهُوا لَا نُفُسِكُمْ وَخَدُ لُوا الْجَهْلَ وَالدَّعْوَى بِلَا بُرْهَانَ (1) بڑے تعجب کی بات یہ ہے کہ تم نے اہل حدیث اور اہل قرآن کی تکفیر کی ۔ (۲) تکفیر تو اللہ اور اس کے رسول کا حق ہے ( تمہیں کافر بنانے کا منصب کس نے دیا) وہ نص سے ثابت ہوتا ہے نہ فلان و بہماں کے قول سے۔ (۳) جس کو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول کا فرکہیں وہی کافر ہے۔ (۴) افسوس تم لوگوں پر ! تو اب آؤ ہم تم کتاب وسنت پر اپنے مقدمہ کو عرض کرتے ہیں۔ (۵) وہاں چل کر کھل جائے گا کہ واقعی ایمان پر کون ہے اور کفر پر کون ۔ (۶) ان لوگوں کا کافر کہنا جنکے ایمان و اسلام پر کتاب وسنت گواہی دیں تمہیں مبارک ہو۔ (۷) سر کشو! اگر ایسے برگزیدہ لوگ عاملین به کتاب اللہ کا فر ہیں تو پھر مومن کون ہے۔ (۸) اللہ کی قسم تم دلیری کر کے ایسے کی تکفیر کر رہے ہو جس کی نسبت رسول علیہ الصلوۃ والسلام گواہی دیتے ہیں کہ وہ واقعی مومن ہے۔ (۹) آؤ خدا کا خوف کرو کب تک بچوں کی طرح دین کو بازیچہ بنا رکھو گے؟ (۱۰) تمہارے دل اور عقلیں گہنائی گئیں ہیں اب قرآن پر تو زیادت نہ کرو۔ (11) اے لوگو اپنی جان کے بچاؤ کے لئے بیدار ہو جاؤ اور اس جہل اور دعوی بلا دلیل کو چھوڑ دو۔ واخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمين والصلوة والسلام على السيد الامين وعلى اله وصحبه اجمعين عبدالكريم