نشانِ آسمانی — Page 115
روحانی خزائن جلد ۴ ۱۱۵ مباحثہ لدھیانہ جانتے ؟ کہ ایک شخص امام بخاری جا ص امام بخاری جیسا معلومات کا ملہ کا دعویٰ رکھنے والا جس نے تین لاکھ حدیث ۱۱۳ حفظ کی تھی ۔ اس کی نسبت ضروری طور پر ماننا پڑتا ہے کہ تمام احادیث مدو نہ مکتو بہ صحاح ستہ کی اس کو معلوم تھیں کیونکہ جس قدر کل حدیثیں صحاح ستہ میں مندرج ہیں وہ معلومات بخاری کا چھٹا حصہ بھی نہیں ۔ بلکہ ان سب کو معلومات امام بخاری میں داخل کر کے پھر بھی اڑھائی لاکھ احادیث ایسی رہ جاتی ہیں جن کے ضبط اور حفظ میں کوئی دوسرا امام بخاری سے شریک نہیں پس اس دلیل سے بظن غالب معلوم ہوتا ہے کہ دمشقی حدیث ضروری امام بخاری کو یاد ہوگی اور ان تمام حدیثوں کے لکھنے کے وقت جو امام بخاری نے مسیح ابن مریم اور مسیح دجال کی نسبت لکھی ہیں بخاری کا یہ فرض تھا کہ اس نا تمام قصہ کی تکمیل کیلئے جس کی تبلیغ کیلئے سب سے بڑھ کر تا کید نبی کریم ہے وہ دمشقی حدیث بھی لکھ دیتا جو مسلم میں درج ہے ۔ حالانکہ بخاری نے اپنی حدیثوں میں بعض ٹکڑے اس قصہ کے لئے ہیں اور بعض ترک کر دیئے ہیں ۔ پس صحیح بخاری کا ان قصص متعلقہ سے خالی ہونا اس بات پر حمل نہیں ہو سکتا کہ امام بخاری ان باقی ماندہ ٹکڑوں سے بے خبر رہا کیونکہ اس کو تین لاکھ حدیث کے ضبط کا دعوی ہے اور چالیس ہزار مجراے دے کر پھر بھی دولاکھ ساٹھ ہزار بخاری کے پاس خاص ذخیرہ حدیثوں کا ماننا پڑتا ہے آخر قرائن موجودہ جو بخاری کے احاطہ احادیث پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتے وہ ایک محقق کو کشاں کشاں اس طرف لے آئیں گے کہ امام بخاری نے بعض متعلقات اس قصہ کو جود مشقی حدیث میں پائی جاتی ہیں عمداً ترک کیا ۔ یہ گمان ہرگز نہیں ہو سکتا کہ نواس بن سمعان کی حدیث بخاری کو نہیں ملی ۔ بلکہ یہ گمان بھی نہیں ہے کہ علاوہ حدیث نو اس بن سمعان کے ایسی روایت کے متعلق اور بھی حدیثیں ملی ہوں جن کو اس نے متروک البیان رکھا ۔ لیکن یہ خیال کسی طرح طمانیت بخش نہیں کہ بخاری نے اس حدیث کو بھی اسی کنزر مخفی میں شامل کر دیا جو تین لاکھ حدیث کا خزانہ اس کے دل میں تھا کیونکہ اس کے ذکر کرنے کے ضروری دواعی پیش تھے اور قصہ کی تکمیل اس بقایا ذکر پر موقوف تھی ۔ سو بجز اس کے صحیح اور واقعی جواب جو جلالت شان بخاری کے مناسب حال ہے اور کوئی نہیں کہ بخاری نے وہ حدیث نواس بن سمعان کی اس مرتبہ پر نہ مجھی جس سے وہ اپنی صحیح میں اس کو دخل دیتا ۔ اس پر ایک اور بھی ثبوت ہے اور وہ یہ ہے کہ بخاری کی بعض حدیثیں اگر غور سے دیکھی جائیں تو اس دمشقی حدیث سے کئی امور میں مخالف ثابت ہوتی ہیں تو یہ بھی ایک وجہ تھی کہ بخاری نے اس حدیث کو نہیں لیا تا اپنی صحیح کو تعارض اور تناقض سے بچاوے اور معلوم ہوتا ہے کہ باقی حدیثیں بھی جو چھیانوے ہزار کے قریب بخاری