نشانِ آسمانی — Page 108
روحانی خزائن جلد ۴ ۷۰۱ مباحثہ لدھیانہ ۱۰۶) عرض کر لینا چاہئے ۔ اگر کتاب اللہ نے ایک امر کی نسبت ایک فیصلہ ناطق اور موید دے دیا ہے جو قابل تغیر اور تبدیل نہیں تو پھر ایسی حدیث دائرہ صحت سے خارج ہوگی جو اسکے مخالف ہے۔ لیکن اگر کتاب اللہ فیصلہ مؤیدہ اور نا قابل تبدیل نہیں دیتی تو پھر اگر وہ حدیث قانون روایت کے رو سے بیح ثابت ہو تو ماننے کے لائق ہے۔ غرض قرآن ایسی مجمل کتاب نہیں جو کبھی اور کسی صورت میں معیار کا کام نہ دے سکے ۔ جس کا ایسا خیال ہے بے شک وہ سخت نادان ہے۔ بلکہ ایمان اس کا خطرہ کی حالت میں ہے اور حدیث انی اوتیت الکتاب و مثلہ سے آپ کے خیال کو کیا کے خیال کو کیا مدد پہنچ سکتی ہے؟ آپ کو معلوم نہیں کہ وحی متلو کا خاصہ ہے جو اس کے ساتھ تین چیزیں ضرور ہوتی ہیں خواہ وہ وحی رسول کی ہو یا نبی کی یا محدث کی ۔ اول ۔ مکاشفات صحیحہ جو اخبارات اور بیانات وحی کو کشفی طور پر ظاہر کرتے ہیں ۔ گویا خبر کو معائنہ کر دیتے ہیں جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ بہشت اور دوزخ دکھلایا گیا جس کا قرآن کریم نے بیان کیا تھا۔ اور ان گزشتہ رسولوں سے ملاقات کرائی گئی جن کا قرآن حمید میں ذکر کیا گیا تھا۔ ایسا ہی بہت سی معاد کی خبریں کشفی طور پر ظاہر کی گئیں۔ تا وہ علم جو قرآن کے ذریعہ سے دیا گیا تھا زیادہ تر انکشاف پکڑے اور موجب طمانیت اور سکینت کا ہو جائے ۔ دوئم ۔ وحی متلو کے ساتھ رویائے صالحہ دی جاتی ہے جو نبی اور رسول اور محدث کیلئے ایک قسم کی وحی میں ہی داخل ہوتی ہے اور باوجود کشف کے رویا کی اس لئے ضرورت ہوتی ہے کہ تا علم استعارات کا جو رویا پر غالب ہے وحی یاب پر کھل جائے اور علوم تعبیر میں مہارت پیدا ہو اور تا کشف اور رویا اور وحی بباعث تعدد طرق کے ایک دوسرے پر شاہد ہوں اور اس وجہ سے نبی اللہ کمالات اور معارف یقینیہ کی طرف ترقی رکھے۔ سوئم ۔ وحی متلو کے ساتھ ایک خفی وحی عنایت ہوتی ہے جو تفہیمات الہیہ سے نامزد ہوسکتی ہے۔ یہی وحی ہے جس کو وحی غیر متلو کہتے ہیں اور متصوفہ اس کا نام وحی خفی اور وحی دل بھی رکھتے ہیں۔ اس وحی سے یہ غرض ہوتی ہے کہ بعض مجملات اور اشارات وحی متلو کے منزل علیہ پر ظاہر ہوں۔ سو یہ وہ تینوں چیزیں ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے أُوتیت الکتاب کے ساتھ مثلہ کا مصداق ہیں۔ اور ہر ایک رسول اور نبی اور محدث کو اس کی وحی کے ساتھ یہ تینوں چیزیں حسب مراتب اپنی اپنی حالت قرب کے دی جاتی ہیں چنانچہ اس بارے میں راقم تقریر هذا صاحب تجربہ ہے یہ مؤیدات ثلاثہ یعنی کشف اور رویا اور وحی خفی در اصل مولوی صاحب ایسے ولی اللہ کے مقابلہ کیلئے آپ نے کمر کسی ہوئی ہے! مولوی صاحب اہل ظن اور صاحب یقین برابر نہیں ہو سکتے ۔ وقت ہے ۔ باز آجائیے۔ ورنہ دانت پینا اور رونا ہوگا۔ ایڈیٹر