نشانِ آسمانی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 598

نشانِ آسمانی — Page 71

روحانی خزائن جلد ۴ ۷۱ مباحثہ لدھیانہ وہ کس کتاب میں ہے۔ نمبر ۲ بعض صحابہ کے اتفاق کو کون اجماع کہتا ہے نمبر ۳ سکوت باقی صحابہ پر نقل صحیح ۶۹ کی کہاں شہادت پائی جاتی ہے اس کو نقل کریں غالباً اور ہو گا سے کام نہ لیں ۔ کچھ جواب نہ دیا اور پھر اپنے خیالات سابقہ کو دو باره نقل کر دیا جس سے صاف ثابت ہے کہ آپ علمی سوالات کو سمجھ نہیں سکتے اور مسائل متعلقہ اجماع سے واقف نہیں یا دیدہ و دانستہ مسلمانوں کو دھوکہ دہی کی غرض سے ان کے جواب سے جو آپ کے دعاوی کے مبطل ہیں چشم پوشی کرتے ہیں اب میں ان سوالات کا پھر اعادہ نہیں کرتا کیونکہ میں آپ سے جواب ملنے کی امید نہیں رکھتا ۔ * اور بجائے اس کے آپ کی باتوں کا خود ایسا جواب دیتا ہوں جس سے ثابت ہو کہ آپ نے جو کچھ کہا ہے وہ آپ کی نا واقعی پر مبنی ہے اور وہ میرے سوالات کا جواب نہیں ہو سکتا۔ آپ نے پرچہ نمبر میں تین شخصوں کی جماعت کے اتفاق کو اجماع قرار دیا تھا جو محض غلط اور نا واقعی پر مبنی ہے علماء اسلام جو اجماع کے قائل ہیں اجماع کی تعریف یہ کرتے ہیں وہ ایک وقت کے جملہ مجتہدین کے جن میں ایک شخص بھی متنفر دو مخالف نہ ہوا اتفاق کا نام ہے۔ توضیح میں ہے هــو اتــفـــاق المجتهدين من امة محمد صلعم في عصر علی حکم شرعی ۔ کتب اصول میں یہ بھی مصرح ہے کہ خلاف الواحد مانع یعنی ایک مجتہد بھی اہل اتفاق کا مخالف ہو تو پھر اجماع متحقق نہ ہوگا ۔ مسلم الثبوت اور اس کی شرح فواتح الرحموت میں ہے۔ قبل اجماع الاكثر مع ندرة المخالف اجماع كغيرا بن عباس اجمعوا ما يقول على العول وغيرابي موسى الاشعرى اجمعوا على نقض النوم الوضوء وغير ابى هريرة وابن عمر اجمعوا على جواز الصوم في السفر والمختارانه ليس باجماع لانتفاع الكل الذي هو مناط العصمة اور نیز اس میں ہے لا ینعقد الاجماع باهل البيت وحدهم لانهم بعض الامة خلافا للشيعة اور نیز اس میں ہے ولا ينعقد بالخلفاء الاربعة خلافا لاحد الامام ۔ سکوت باقی اصحاب سے آپ نے اجماع استنباط کیا ہے ۔ مگر اس کا ثبوت نہیں دیا بلکہ الٹا ہم سے ثبوت مخالفت طلب کیا ہے یہ ثبوت پیش کرنا ہما را فرض نہ تھا۔ مگر ہم آپ پر احسان کرتے ہیں ۔ آپ کو سکوت کل کا ثبوت پیش کرنا معاف کر کے خود ثبوت خلاف پیش کرتے ہیں۔ پس واضح ہو کہ ابن صیاد کو حاشيه آخر افسوس کرتے کرتے مولوی صاحب کی حالت یاس و قنوط تک پہنچ گئی مولوی صاحب لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ لَا تَايْتَسُوا مِنْ رَّوْحِ اللہ کے صبر کیجئے ابھی حضرت مرزا صاحب سو صفحہ تک کا جواب مفصل آپ کو سناتے ہیں۔ ایڈیٹر الزمر : ۵۴ ۲ یوسف : ۸۸