نسیمِ دعوت — Page 439
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۳۷ نسیم دعوت خدائے تعالیٰ انسان سے یہ چاہتا ہے کہ وہ بکری بننے کے محل میں بکری بن جائے اور شیر بننے کے محل میں وہ شیر بن جائے اور خدا تعالیٰ ہرگز نہیں چاہتا کہ وہ ہر وقت اور ہر محل میں بکری ہی بنا رہے اور نہ یہ کہ ہر جگہ وہ شیر ہی بنا رہے اور جیسا کہ وہ نہیں چاہتا کہ ہر وقت انسان سوتا ہی رہے یا ہر وقت جاگتا ہی رہے یا ہر دم کھاتا ہی رہے یا ہمیشہ کھانے سے منہ بند رکھے ۔ اسی طرح وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ انسان اپنی اندرونی قوتوں میں سے صرف ایک قوت پر زور ڈال دے اور دوسری قوتیں جو خدا کی طرف سے اس کو ملی ہیں ان کو لغو سمجھے۔ اگر انسان میں خدا نے ایک قوت حلم اور نرمی اور درگزر اور صبر کی رکھی ہے تو اسی خدا نے اس میں ایک قوت غضب اور خواہش انتقام کی بھی رکھی ہے۔ پس کیا مناسب ہے کہ ایک خدا دا د قوت کو تو حد سے زیادہ استعمال کیا جائے اور دوسری قوت کو اپنی فطرت میں سے بکلی کاٹ کر پھینک دیا جائے ۔ اس سے تو خدا پر اعتراض آتا ہے کہ گویا اس نے بعض قوتیں انسان کو ایسی دی ہیں جو استعمال کے لائق نہیں کیونکہ یہ مختلف قوتیں اسی نے تو انسان میں پیدا کیں ۔ پس یادر ہے کہ انسان میں کوئی بھی قوت بُری نہیں ہے بلکہ اُن کی بد استعمالی بُری ہے۔ سو انجیل کی تعلیم نہایت ناقص ہے۔ جس میں ایک ہی پہلو پر زور ڈال دیا گیا ہے ۔ علاوہ اس کے دعوئی تو ایسی تعلیم کا ہے کہ ایک طرف طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دیں مگر اس دعوی کے موافق عمل نہیں ہے مثلاً ایک پادری صاحب کو کوئی طمانچہ مار کر دیکھ لے کہ پھر عدالت کے ذریعہ سے وہ کیا کارروائی کراتے ہیں ۔ پس یہ تعلیم کس کام کی ہے جس پر نہ عدالتیں چل سکتی ہیں ﴿۷﴾ نہ پادری چل سکتے ہیں ۔ اصل تعلیم قرآن شریف کی ہے جو حکمت اور موقعہ شناسی پر مبنی ہے مثلاً انجیل نے تو یہ کہا کہ ہر وقت تم لوگوں کے طمانچے کھاؤ اور کسی حالت میں شرکا مقابلہ نہ کرو مگر قرآن شریف اس کے مقابل پر یہ کہتا ہے۔ جَزَؤُا سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا ۚ فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى الله کے یعنی اگر کوئی تمہیں دکھ پہنچاوے الشورى : ۴۱