نسیمِ دعوت — Page xx
وجۂ تالیف ۶؍ فروری ۱۸۹۸ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔میں نے خواب میں دیکھا کہ خدا تعالیٰ کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں اور وہ درخت نہایت بدشکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک چھوٹے قد کے ہیں۔مَیں نے بعض لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔میرے پر یہ امر مشتبہ رہا کہ اُس نے یہ کہا کہ آئندہ جاڑے میں یہ مرض بہت پھیلے گا یا یہ کہا کہ اس کے بعد کے جاڑے میں پھیلے گالیکن نہایت خوفناک نمونہ تھا جو مَیں نے دیکھا۔اور فرمایا:۔مجھے اس سے پہلے طاعون کے بارے میں الہام بھی ہوا اور وہ یہ ہے :۔اِنَّ اللّٰہَ لَایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ۔اِنَّہٗ اٰوَی الْقَرْیَۃَ (تذکرہ صفحہ۲۶۱ ایڈیشن چہارم) اِس پیشگوئی کے مطابق پنجاب میں طاعون پھیلی اور ماہ اکتوبر ۱۹۰۲ء میں جبکہ طاعون زوروں پر تھی گورنمنٹ نے پنجاب میں طاعون کے ٹیکے کی سکیم وسیع پیمانہ پر شروع کی اور تقریر و تحریر کے ذریعے سے یہ پروپیگنڈا کیا کہ ہر شخص کے لئے ٹیکہ لگانا ضروری ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ٹیکا لگوانے سے انکار کیا اور ۵؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو ’’کشتی نوح‘‘ کتاب شائع فرمائی جس میں آپ نے گورنمنٹ کی طرف سے ٹیکا کے انتظامات کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ :۔’’یہ وہ کام ہے جس کا شکر گذاری سے استقبال کرنا دانشمند رعایا کا فرض ہے۔‘‘ اور اپنے اور اپنی جماعت کے متعلق فرمایا:۔’’اگر ہمارے لئے ایک آسمانی روک نہ ہوتی تو سب سے پہلے رعایا میں سے ہم ٹیکہ کراتے اور آسمانی روک یہ ہے کہ خدا نے چاہا ہے کہ اس زمانہ میں انسانوں کے لئے ایک آسمانی رحمت کا نشان دکھاوے۔سو اُس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تُو اور جو شخص تیرے گھر کی چار دیوار کے اندر ہو گا اور وہ جو کامل پیروی اور اطاعت اور سچّے تقویٰ سے تجھ میں محو ہو جائے گا وہ سب طاعون سے بچائے جائیں گے اور ان آخری دنوں میں خدا کا یہ نشان ہو گا تا وہ قوموں میں فرق کر کے دکھلاوے۔لیکن وہ