نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 157 of 566

نسیمِ دعوت — Page 157

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۵۷ اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح فَلَا تَتَخَيَّرُ سُبُلَ غَيٌّ وَ شَقْوَةٍ وَلَا تَبْخَلَنُ بَعْدَ النَّوَالِ وَ فَكَّرُ اور گمراہی اور شقاوت کی راہ اختیا ر مت کر۔ اور عطا کے بعد بخل مت کر اور سوچ لے وَلَا تَأْكُلُوا لَحْمِنُ بِسَبٌ وَّ غِيْبَةٍ وَلَحْمِي بِوَجْهِ الْحِبِّ سَمٌ مُّدَمِّرُ اور گالی اور غیبت کے ساتھ میرا گوشت مت کھاؤ۔ اور اُس دوست کے منہ کی قسم ! کہ میرا گوشت زہر ہلاک کرنے والا ہے بِأَجْنِحَةِ الأَشْوَاقِ جِئْنَا فِنَاءَ كُمُ بِمَا قُدِّمَتْ مِنْكُمْ عَطَايَا فَنَحْضُرُ ہم شوق کے بازوؤں کے ساتھ تمہارے گھر آئے ہیں کیونکہ تمہارے احسان ہم پر ہیں اس لئے ہم حاضر ہوئے ہیں وَ إِنْ كُنْتَ قَدْ سَاءَ تُكَ اَمْرُ خِلَافَتِي فَسَلُ مُرْسِلِى مَا سَاءَ قَلْبَكَ وَاحْصُرُ اور اگر تجھے میری خلافت بری معلوم ہوئی ہے۔ تو پھر میرے بھیجنے والے کو بہت اصرار سے پوچھ کہ کیوں ایسا کیا ؟ ا تُنْكِرُنِي وَاللهُ نَوَّرَ دَعْوَتِى أَتَلْعَنُ مَنْ هُوَ مِثْلَ بَدْرٍ مُنَوَّرُ کیا تو میرا انکار کرتا ہے اور خدا نے میری دعوت کو روشن کیا ہے۔ کیا تو ایسے شخص پر لعنت بھیجتا ہے کہ جو چاند کی طرح روشن ہے؟ يُصَدِّقُ أَمْرِي كُلُّ مَنْ كَانَ فِي السَّمَا فَمَا أَنْتَ يَا مِسْكِينُ إِنْ كُنْتَ تَكْفُرُ میری تصدیق تو تمام آسمان والے کرتے ہیں۔ پس اے مسکین ! تو کیا چیز ہے اگر انکار کرے وَ إِنِّي قَتِيلُ الْحِبِّ فَاخْشَوْا قَتِيلَهُ وَلَا تَحْسَبُوْنِي مِثْلَ نَعْشِ يُنَكَّرُ اور میں کشتہ دوست ہوں ۔ پس تم کشتہ دوست سے ڈرو۔ اور مجھے اس جنازہ کی طرح مت سمجھ لو جس کی ہیئت بدل دی گئی اور وہ شناخت نہ کیا جائے اطُوفُ لِمَرْضَاةِ الْحَبِيبِ كَهَائِمِ وَ اَسْعَى وَإِنَّهُ مُسْتَهَامٌ وَ مُغْبِرُ ﴿۳۶﴾ میں دوست کی رضا کیلئے ایک سرگشتہ کی طرح گھوم رہا ہوں ۔ اور میں دوڑ رہا ہوں اور اس میں رح گھوم رہا ہوں ۔ اور میں دوڑ رہا ہوں اور اس میں سرگردان ہوں اور بہت دوڑنے سے غبار آلودہ ہوں اَذَابَتْ مَحَبَّتُهُ عِظَامِي جَمِيعَهَا وَهَبَّتْ عَلَى نَفْسِي رِيَاحٌ تُكَسِّرُ اُس کی محبت نے میری ہڈیوں کو گلا دیا۔ اور میرے نفس پر اُس کی تیز ہوا چلی جو توڑنے والی تھی ذَرُوا حِرْصَ تَفْتِيُشِي فَإِنِّي مُغَيَّبٌ غُبَارٌ عِظَامِي قَدْ سَفَتُهَا صَرَاصِرُ میری حقیقت شناسی کا خیال چھوڑ دو کہ میں تمہاری نظروں سے غائب ہوں۔ اور میری ہڈیاں ایک ایسا غبار ہیں کہ جن کو تیز ہوائیں اڑا کر لے گئیں إِذَا مَا انْقَضَى وَقُتِى فَلَا وَقْتَ بَعْدَهُ لَدَيْنَا مَعِينٌ لَّا يُحَاكِيْهِ أَخَرُ جب میرا وقت گذر جائے گا تو بعد اُس کے کوئی وقت نہیں ۔ ہمارے پاس وہ صاف پانی ہے جو اُس کی نظیر نہیں