نسیمِ دعوت — Page 142
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۴۲ اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح مہدی کے وقت رمضان کے مہینہ میں اور ان تاریخوں میں کبھی خسوف کسوف نہیں ہوا اور اگر ہوا ہے تو اس کو پیش کرو ورنہ جبکہ یہ صورت اپنی ہیئت مجموعی کے لحاظ سے خود خارق عادت ہے تو کیا حاجت کہ سنت اللہ کے بر خلاف کوئی اور معنے کئے جائیں ۔ غرض تو ایک علامت کا بتلانا تھا سو وہ متحقق ہوگئی اگر متحقق نہیں تو اس واقعہ کی صفحہ تاریخ میں کوئی نظیر تو پیش کرو اور یادر ہے کہ ہرگز پیش نہ کر سکو گے۔ اردو نظم کیوں نہیں لوگو تمہیں حق کا خیال دل میں آتا ہے مرے سو سو ابال آنکھ تر ہے دل میں میرے درد ہے کیوں دلوں پر اس قدر یہ گرد ہے دل ہوا جاتا ہے ہر دم بے قرار کس بیاباں میں نکالوں یہ بخار درد سے زیر و زبر ہو گئے ہم آسماں پر غافلو اک جوش ہے مر گئے ہم پر نہیں تم کو خبر کچھ تو دیکھو گر تمہیں کچھ ہوش ہے ہو گیا دیں کفر کے حملوں سے چور چپ رہے کب تک خداوند غیور اس صدی کا بیسواں اب سال ہے شرک و بدعت سے جہاں پامال ہے افترا کی کب تلک بنیاد ہے بدگماں کیوں ہو خدا کچھ یاد ہے وہ خدا میرا جو ہے جوہر شناس اک جہاں کو لا رہا ہے میرے پاس لعنتی ہوتا ہے مرد مفتری لعنتی کو کب ملے یہ سروری