نسیمِ دعوت — Page 136
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۳۶ اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح کیونکہ وہ حقیقت نبوت قریب سے اُن کو دکھائی گئی اور بار بار دکھائی گئی۔ مولوی ثناء اللہ صاحب کو یہ بھی ایک دھوکا لگا ہوا ہے کہ وہ متناقض حدیثوں کو ہر ایک کے سامنے پیش کر دیتے ہیں یہی دھوکا اُن کے بزرگ مولوی محمد حسین صاحب کو لگا ہوا ہے۔ اور ہر ایک مقام میں جب حیات ممات حضرت عیسیٰ کے متعلق کوئی ذکر آوے تو جھٹ حدیثوں کا ایک ڈھیر پیش کر دیتے ہیں کہ دیکھو صحیح بخاری ۔ صحیح مسلم ۔ جامع تر ندی سُنن ابن ماجہ سنن ابی داؤد۔ سنن نسائی۔ مسند امام احمد - طبرانی معجم کبیر ۔ نعیم ابن حماد ۔ مستدرک حاکم ۔ صحیح ابن خزیمہ۔ ۲۷ نوادر الاصول ترندی ۔ ابوداؤد طیالسی ۔ احمد ۔ مسند الفردوس ۔ ابن عساکر ۔ کتاب الوفا ابن جوزی۔ شرح السنہ بغوی ۔ ابن جریر بیہقی - اخبار المهدی ۔ مسندابی یعلی وغیرہ کتب حدیث ۔ ان میں یہی لکھا ہے کہ عیسی نازل ہو گا گو بیت المقدس میں یاد مشق میں یا افیق میں یا مسلمانوں کے لشکر میں اس کا کوئی فیصلہ نہیں اور یہ ھوا ہے جو آج کل پیش کیا جاتا ہے۔ اور عجیب تر یہ کہ بعض ان کتابوں میں سے ایسی نایاب ہیں کہ ان حضرات کے باپ نے بھی نہیں دیکھی ہوں گی مگر ان کے نام سنا دیتے ہیں تاکم سے کم یہی سمجھا جائے کہ بڑے مولوی صاحب ہیں جو اتنی کتابیں جانتے ہیں ۔ افسوس یہ لوگ خیانت پیشہ ہیں ہم تو اب یہود کا نام لینے سے بھی شرمندہ ہیں کیونکہ اسلام میں ہی ایسے یہودی موجود ہیں۔ ابھی تھوڑے دن گزرے ہیں کہ مولوی محمد حسین صاحب نے سرکار انگریزی کو مہدی کے بارے میں ایک کتاب پیش کر کے خوش کر دیا ہے جس میں لکھا ہے کہ مہدی کے بارے میں کوئی حدیث صحیح ثابت نہیں ہوئی اور زمین کا انعام بھی پایا ہے۔ معلوم نہیں کہ کس صلہ میں مگر خدمت تو یہی ہے کہ مہدی کے وجود پر قلم نسخ پھیر دیا ہے۔ اب بتلاؤ آسمان سے مسیح کس کے لشکر میں اُترے گا جبکہ مہدی ندارد ہے۔ اس قدر کتا بیں جن کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے وہ تو اسی غرض سے پیش کی جاتی ہیں کہ مہدی کی مدد کے لئے مسیح آئے گا ۔ اب جب مہدی کا ہی وجود نہیں تو کیوں آئے گا۔ خلیفہ تو قریش میں سے ہونا چاہیے سو وہ تو نہ رہا۔