نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 95 of 566

نسیمِ دعوت — Page 95

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۹۵ تحفة الندوه خیال کرتا ہوں ۔ کیونکہ یہ امر لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کے پر موقوف ہے پھر میں اُن کا حکم ہونا کس وجہ سے منظور کروں ہاں اگر چند منتخب مولوی ان میں سے بطور طالب حق قادیان میں آجاویں تو میں زبانی ان کو تبلیغ کر سکتا ہوں ورنہ خدا کا کام چل رہا ہے کوئی مخالف اس کو روک نہیں سکتا ۔ مخالف سے فتوی لینا کیا معنی رکھتا ہے ہاں البتہ ہم حافظ صاحب کے اس اشتہار سے ندوہ کے لئے ایک موقع تبلیغ کا نکالتے ہیں حافظ صاحب یا د رکھیں کہ جو کچھ رسالہ قطع الوتین میں جھوٹے مدعیان نبوت کی نسبت بے سروپا حکایتیں لکھی گئی ہیں وہ لکھی گئی ہیں وہ حکایتیں اُس وقت تک ایک ذرہ قابل اعتبار نہیں جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ مفتری لوگوں نے اپنے اس دعوئی پر اصرار کیا اور توبہ نہ کی اور یہ اصرار کیونکر ثابت ہو سکتا ہے جب تک اُسی زمانہ کی کسی تحریر کے ذریعہ سے یہ امر ثابت نہ ہو کہ وہ لوگ اسی افترا اور جھوٹے دعوی نبوت پر مرے اور اُن کا کسی اُس وقت کے مولوی نے جنازہ نہ پڑھا اور نہ وہ قبرستان مسلمانوں میں دفن کئے گئے اور ایسا ہی یہ حکایتیں ہرگز ثابت نہیں ہوسکتیں جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ ان کی تمام عمر کے مفتریات جن کو انہوں نے بطور افتر اخدا کا کلام قرار دیا تھا وہ اب کہاں ہیں اور ایسی کتاب ان کی وحی کی کس کس کے پاس ہے تا اس کتاب کو دیکھا جائے کہ کیا کبھی اُنہوں نے کسی قطعی یقینی وحی کا دعویٰ کیا اور اس بناء پر اپنے تئیں ظلی طور پر یا اصلی طور پر نبی اللہ ٹھہرایا ہے اور اپنی وحی کو دوسرے انبیاء علیہم السلام کی وحی کے مقابل پر منجانب اللہ ہونے میں برابر سمجھا ہے تا تَقَوَّلَ کے معنے اس پر صادق آئیں ۔ حافظ صاحب کو معلوم نہیں کہ تقول کا حکم قطع اور یقین کے متعلق تی ہے پس جیسا کہ میں نے بار بار بیان کر دیا ہے کہ یہ کلام جو میں سناتا ہوں یہ قطعی اور یقینی ۴ طور پر خدا کا کلام ہے جیسا کہ قرآن اور توریت خدا کا کلام ہے اور میں خدا کا ظلی اور بروزی طور پر نبی ہوں اور ہر ایک مسلمان کو دینی امور میں میری اطاعت واجب ہے اور مسیح موعود ماننا واجب ہے اور ہر ایک جس کو میری تبلیغ پہنچ گئی ہے گو وہ مسلمان ہے مگر مجھے اپنا حکم نہیں ٹھہراتا اور نہ مجھے مسیح موعود مانتا ہے اور نہ میری وحی کو خدا کی طرف سے جانتا ہے وہ آسمان پر قابل مواخذہ ہے کیونکہ جس امر کو اُس نے اپنے وقت پر قبول کرنا تھا اُس کو رد کر دیا میں صرف ل الواقعة : ٨٠